کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
گزشتہ روز ” دی ٹائمز “ کے آرٹیکل میں دعویٰ کیا گیا کہ انگلینڈ کے دورہ پاکستان کو انگلینڈ پلیئرز پارٹنرشپ نے مداخلت کرتے ہوئے روکا لیکن اب پلیئرز یونین کا اس معاملے میں بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے


تفصیلات کے مطابق انگلش پلیئرز پارٹنر شپ نے برطانوی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان جانے کے لئے سفر سے متعلق پوچھا ہی نہیں گیا تو

ہم اس دور ہ منسوخی کے پیچھے کیسے ہو سکتے ہیں؟۔ انگلش پلیئرز ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ ہمیں دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا بعد میں بتایا گیا اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے ہمیں

اس حوالے سے مکمل اندھیرے میں رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دورہ ملتوی کرنے سے متعلق کھلاڑیوں سے پوچھا تک نہیں گیا، انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اجلاس کے بعد کھلاڑیوں کو فیصلے سے آگاہ کیا

کسی موقع پر بھی کھلاڑیوں کا اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے فیصلے سے کھلاڑیوں کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ” دی ٹائمز “ کا اپنے آرٹیکل میں کہناتھا کہ

بورس جانسن انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کے فیصلے پر بھی ناراض ہیں ، وزیراعظم اور سینئر وزراء کا یہ ماننا ہے کہ اس فیصلے کے باعث انگلینڈ کے پاکستانی حکومت کے ساتھ

تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے سے قبل انگلینڈ کرکٹ بورڈ ، وزیراعظم آفس، دفترخارجہ ، محکمہ ثقافت ، میڈیا اور کھیل کے حکام کے درمیان مشاورت ہوئی تھی جس میں

گورننگ باڈی کی جانب سے منصوبہ بندی سے آگے بڑھنے پر زور دیا گیا۔ ان درخواستوں کو نظر انداز کرنے اور کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کی بنیاد پر دورہ منسوخ کرنے کے بعد کے فیصلے نے وزرا کو مشتعل کر دیاہے۔

ان کا ماننا ہے کہ اس فیصلے نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کیلئے برطانیہ کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے جب وہ خاص طور پر اہم ہے۔ طالبان کے قبضے کے بعد

پاکستان نے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان سے نکالنے کیلئے بھر پور مدد فراہم کی جبکہ افغان جنگ میں ان کا ساتھ دینے والے افغانیوں کو بھی وہاں سے نکالا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں