کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے کہا ہے کہ پرامید ہیں کہ انگلش ٹیم پاکستان آئے گی اور کھیلے گی۔ سی ای او وسیم خان نے ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ


نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ ختم کرنے پر سری لنکا اور بنگلا دیش سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں نے رضامندی ظاہر کی، مگر وقت کی قلت اور لاجسٹک مسائل کے باعث یہ ممکن نہیں ہوسکا۔

وسیم خان نے مزید کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں بہت کچھ ہوا ہے، امید ہے کہ انگلش ٹیم پاکستان آئے گی اور کھیلے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کا پاکستان سے معلومات شیئر نہ کرنا مایوس کن ہے،

کھلاڑیوں کو صدارتی سطح کی سیکیورٹی دی جارہی تھی۔ پی سی بی کے سی ای او نے یہ بھی کہا کہ ورلڈکپ میں نیوزی لینڈ کے ساتھ کھیلنے کا اس وقت کوئی ایشو نہیں،

ہم نے پاکستان میں کرکٹ کے لیے دن رات ایک کیا ہے اور بہت محنت کی ہے۔ جمعے کی صبح سیکیورٹی ایکسپرٹ ریگ ڈیکاسن نے فون کر کے صورتحال بتائی، ان سے تمام صورتحال جان کر سیکیورٹی عہدیداروں سے بات کی۔

چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ کی کال آئی کہ یہ تھریٹ ملی ہیں، انہوں نے بتایا وزیراعظم نیوزی لینڈ نے انہیں واپس آنے کا کہا ہے۔ مایوس کن تھا کہ ہم سے معلومات شیئر نہیں کی گئیں،

ہم سے معلومات شیئر کی جاتیں تو امکان تھا کہ ہم خدشات دور کرتے۔ ہم نے ٹور آن رکھنے کی بہت کوشش کی، ہم نے یقین دلایا کہ پاکستان محفوظ ملک ہے، یہاں کھلاڑیوں کو صدارتی سطح کی سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔

کھلاڑیوں کو وہ سیکیورٹی دی جو گزشتہ برس شاہی خاندان کے افراد کو ملی تھی، تین روز ٹریننگ ہوئی کسی نے شکایت نہیں کی سب مطمئن تھے۔ مایوس کن ہے کہ ہمارے ملک میں ٹور ختم کردیا گیا،

رپورٹ ہرصورت میں شیئر کی جانی چاہیے، شیئر نہ کرنا زیادتی ہے، یک طرفہ ٹور ختم کرنا افسوسناک ہے۔ ہمیں امید ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آئے گی اور وہ یہاں کھیلیں گے،

انگلینڈ نےدھماکوں کے چند ہفتوں بعد بنگلادیش کا دورہ کیا اور کرکٹ کھیلی، سیکیورٹی ایکسپرٹ ریگ ڈیکاسن کو بھی تفصیل سے نہیں بتایا گیا، صرف پانچ ممالک کے ایکسپرٹس کے پاس یہ تفصیلات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں