کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے دعوی کیا ہے کہ ورلڈ کپ 1999ء کے دوران اس وقت کے کپتان وسیم اکرم شعیب اختر کی وجہ سے خود کوغیر محفوظ تصور کررہے تھے۔ اپنے کالم میں شعیب اختر اور وسیم اکرم کی حالیہ لڑائی کے بعد اپنے کالم میں رئوف کلاسرا کہتے ہیں کہ


’ڈاکٹر ظفر الطاف نے سنائی تھیں اس کے بعد پاکستانی کرکٹ اور کرکٹرز سے دل بھر گیا، ڈاکٹرصاحب خود کرکٹ کے کھلاڑی تھے اورکاردار صاحب جب چیئر مین کرکٹ بورڈ تھے تو وہ 7 سال بورڈ کے سیکرٹری رہے‘

برسوں کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر رہے‘ پھر 1999ء کرکٹ ورلڈ کپ ٹیم کے منیجر اور آخر میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔ وہ 1960ء سے لیکر ہر کھلاڑی اور اس کی حرکتوں کو اچھی طرح جانتے تھے۔

ڈاکٹرصاحب 3،4 کھلاڑیوں کو بہت پسند کرتے تھے، سرفراز نواز، وسیم راجہ اورشعیب اختر ان کے فیورٹ باؤلر تھے۔ کپتانوں میں عبدالحفیظ کاردار، عمران خان اور وسیم اکرم کے فین تھے۔


وسیم اکرم کی بہت تعریفیں کرتے تھے لیکن جب ورلڈ کپ 1999ء کا فائنل ہارے جہاں وہ ٹیم کیساتھ منیجر کے طور پر گئے تھے تو وسیم اکرم سے شدید مایوس لوٹے۔

کہتے تھے کہ وسیم اکرم کو شعیب اختر سے insecure دیکھا تو دکھ ہوا، سارا ورلڈ کپ اور ٹیموں کے کھلاڑی ایک طرف اور شعیب اختر اکیلا ایک طرف ،لوگ شعیب اختر کیلئے دیوانے ہورہے تھے اور

یہ وسیم اکرم سے ہضم نہیں ہو رہا تھا ،ڈاکٹرصاحب نے وسیم اکرم کو سمجھایا کہ شعیب اختر تمہیں ورلڈ کپ جتوائے گا، یہ تمہارا میچ وننگ باؤلر ہے۔

اسکو آگے بڑھنے کا اسطرح راستہ دو اور اسے ورلڈ کپ جیتنے کیلئے استعمال کرو جیسے عمران خان نے تمہیں 1992ء میں کیا تھا لیکن شعیب کی مقبولیت وسیم کو جلن کا شکار کررہی تھی ۔

رئوف کلاسرا کے مطابق ڈاکٹر ظفر الطاف نے وسیم اکرم کی بیگم صاحبہ سے بھی را بطہ کیا کہ اپنے میاں کو سمجھائو کہ اپنے سٹارباؤلر کو خراب نہ کرے مگر یہ توقع پوری نہ ہوئی‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں