کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کیلئے ٹیم اچھی ہے ،اب بابراعظم کو کپتانی اچھی کرنا ہوگی، انہیں دوستیاں چھوڑ کر بہت کچھ سیکھنا پڑے گا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے


پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد دو مزید ورلڈ کپ بھی آرہے ہیں۔ وسیم اکرم نے کہا کہ ہمارے ہاں کھلاڑیوں پر بلاوجہ تنقید کی جاتی ہے لیکن حل کوئی نہیں بتاتا،

ضرورت ہے تو 10 اکتوبر سے پہلے پوری ٹیم تبدیل کرسکتے ہیں لیکن میرے خیال میں سلیکٹ کیا گیا سکواڈ بہترین ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے کہنے پر قومی ٹیم کا انتخاب نہیں کیا جاسکتا ہے،

سرفراز احمد گزشتہ 2 سال سے ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن اچھا نہیں کھیل پا رہے، ان کے مقابلے میں رضوان کی پرفارمنس اچھی ہے۔


وسیم اکرم نے خوشدل شاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے لڑکے یو اے ای کی پچز کو سمجھتے ہیں، آصف علی کا بھی پی ایس ایل میں سٹرائیک ریٹ 170 سے زائد ہے۔ سابق کپتان نے کہا کہ

شعیب ملک کا بہترین کرکٹ مائنڈ ہے لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، مڈل آرڈر ہمارا مسئلہ تھا ،ہمارے پاس پاور ہٹر نہیں تھا، اعظم خان اور آصف علی پاور ہٹر کی صورت میں قومی ٹیم میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑی کو 2 ہدایات دی جاتی ہیں کہ کھل کر کھیلو ،آؤٹ نہ ہو، ٹیم میں اگر تجربہ کار بائولر کی ضرورت ہے تو محمد عامر کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں، ان کی کارکردگی بھی بہترین ہے۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ جاوید میانداد بہترین کرکٹ سمجھتے ہیں لیکن آج کل کرکٹ سے جڑے نہیں ہیں، وہ کرکٹ بورڈ میں بطور کنسلٹنٹ یا ڈائریکٹر آسکتے ہیں، بطور کوچ ایسا کرکٹر چاہیے جو 10 سال سے کرکٹ سے جڑا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں