کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
انضمام الحق کہتےہیں ʹمیں اس کھلاڑی کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا۔ جب اس کھلاڑی نے مجھے گالیاں دیں اور مجھے سفارشی کہا تو میں ہکا بکا رہ گیا اور یہ صورتحال میرے لیے اس قدر تکلیف دہ تھی کہ


جتنی دیر میں شاور کے نیچے کھڑا رہا میں رو رہا تھا۔‘ سنہ 1992 کےعالمی کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا آخری لیگ میچ آسانی سے جیت چکی تھی

اور میچ کے بعد پاکستانی کھلاڑی خوشگوار موڈ میں شاور روم میں نہا رہےتھے کہ اس دوران ٹیم میں شامل ایک نوجوان کرکٹر کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں

انھوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ یہ نوجوان کرکٹر اس میچ میں صرف پانچ رن بنا کرآؤٹ ہوا تھا اور جب وہ شاور لے رہا تھا تو اس کے ایک ساتھی، سینئر کرکٹر نے اچانک اسے گالیاں دینی شروع کر دیں اور کہا کہ تم سفارش سے ٹیم میں آ گئے ہو۔

یہ نوجوان کرکٹرانضمام الحق تھے جو 29 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کےبا وجود ورلڈ کپ کی جیت کی خوشگوار یادوں کےساتھ ساتھ اس واقعے کی تلخی کو بھی نہیں بھول پائے ہیں۔

انضمام الحق نے بی بی سی اردوکے ساتھ گفتگو میں سنہ 1992 کے عالمی کپ کےمختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی ہے۔ انضمام الحق کہتے ہیں ʹمیں اس کھلاڑی کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا۔

جب اس کھلاڑی نے مجھے گالیاں دیں اور مجھے سفارشی کہا تو میں ہکا بکا رہ گیا اوریہ صورتحال میرے لیےاس قدر تکلیف دہ تھی کہ جتنی دیر میں شاور کے نیچے کھڑا رہا میں رو رہا تھا۔‘

’میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ میں سفارشی کیسے ہو گیا؟ میں نے ورلڈ کپ میں آنےسے قبل سری لنکا کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل میں دو سنچریاں بنائی ہوئی تھیں اور لگاتار دو فرسٹ کلاس ڈومیسٹک سیزن میں

تقریباً تین ہزار رن سکور کر رکھے تھے جن میں دس سنچریاں شامل تھیں۔‘انضمام الحق کہتےہیں ʹاس واقعے نے مجھے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ میرے دل میں ان سینئر کرکٹر کے لیے آج بھی عزت ہے لیکن

ان کی اس بات کو نہیں بھول پایا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب انسان مشکل گھڑی میں ہو اوراس وقت کوئی آپ کو ذہنی اذیت سےدوچار کر دے تو اس بات کو ُبھلانا آسان نہیں ہوتا۔‘

انضمام الحق بتاتے ہیں ʹنیوزی لینڈ کے خلاف اس میچ کے بعد مجھے ایک سینئر کرکٹر کی جانب سےیہ بھی سننا پڑا کہ کپتان عمران خان تمہارے جلد آؤٹ ہو جانے پرغصے میں تھے۔

میں اسی ذہنی کشمکش میں تھا کہ اگلے دن ہماری فلائٹ تھی۔ جب میں جہاز میں داخل ہوا تو پتہ چلاکہ میری سیٹ عمران خان کے برابر ہے۔ ’میں سوچنے لگا کہ مصیبت آتی ہے تو چاروں طرف سے آتی ہے۔

کل ادھر سے ڈانٹ پڑی تھی آج ادھر سے ڈانٹ پڑے گی لیکن جب میں ان کے برا بر جا کر بیٹھا تو انھوں نےکہا کہ تم نے کل ڈینی موریسن کو ُپل شاٹ پر زبردست چوکا لگایا تھا۔

میں تو سوچ رہا تھا کہ آج تم ُان کو اڑا کر رکھ دو گے۔ خیر کوئی بات نہیں اگلے میچ میں دیکھیں گے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کے وہ الفاظ میرے لیے بڑے اہم تھے۔

میں بہت ڈاؤن تھا لیکن یہ الفاظ سننے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ میں کچھ کرسکتا ہوں۔ انضمام الحق کہتےہیں ʹورلڈ کپ کے دوران پاکستانی ٹیم ایک دعوت میں مدعو تھی،

اس دوران عمران خان نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے میزبان سے کہا کہ یہ نوجوان بہت باصلاحیت ہے اورمجھے یقین ہے کہ جس دن یہ چل پڑا یہ ہمیں جتوادے گا۔‘

’مجھے یاد ہے کہ عمران خان کی یہ بات چند کرکٹرز کو اچھی نہیں لگی تھی اور انھوں نےخوفناک نظروں سےمیری طرف دیکھا تھا۔‘ نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں انضمام الحق نے

صرف 37 گیندوں پر 60 رن کی شاندار اننگز کھیلی تھی جسے وہ اپنے کریئر میں موقع کی مناسبت سےکھیلی گئی سب سے بہترین اننگز قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ʹسیمی فائنل سے قبل میری طبعیت

دست اور قے کی وجہ سے بہت زیادہ خراب تھی اور مجھے لگ رہا تھا کہ میں یہ میچ نہیں کھیل پاؤں گا۔ میں نےمنیجر انتخاب عالم کے ذریعے بھی یہ بات عمران خان تک پہنچائی تھی لیکن

انھوں نے مجھ پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ کسی بھی حالت میں تم نے یہ میچ کھیلنا ہے۔ یہ مجھ پر ان کااعتماد تھا۔ میں میچ کے دوران بھی ٹریٹمنٹ لے رہا تھا۔‘

انضمام الحق کا کہنا ہے ʹجب میں بیٹنگ کے لیے جا رہا تھا تو عمران خان نے اس وقت مجھ سے صرف یہی کہاتھا کہ اپنا نیچرل گیم کھیلنا۔ اللہ مجھ پر بہت مہربان تھا کہ اس دن میں نے جو بھی شاٹ کھیلا وہ صحیح لگا۔

اگرچہ جاوید میانداد نے مجھ سے کہا کہ آرام سے کھیلو ہم آخری اوورز میں اٹیک کر سکتے ہیں لیکن میں اپناکھیل کھیلتا رہا۔ ’جب میں آؤٹ ہو کر آیا تو ہمیں جیت کے لیے 36 رن درکار تھے۔

میں سوچ رہا تھا کہ میرے اس موقع پر آؤٹ ہونے پر عمران خان کا نجانے کیا ردعمل ہو لیکن میں جیسےہی ڈریسنگ روم میں آیا عمران خان ٹریٹمنٹ ٹیبل پر سے اٹھے اور مجھے گلے لگا لیا۔

انضمام الحق کا کہنا ہے ʹمجھے یہ بات بہت بعد میں پتہ چلی کہ جب میں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور فائنل کی اننگز کھیل رہا تھا تو میرے والد صاحب نے ٹی وی پرمیچ ہی نہیں دیکھا تھا بلکہ وہ تمام وقت دعائیں مانگ رہےتھے۔‘

’اولاد کی کامیابی پر جو خوشی والدین کو ہوتی ہے وہ خود اولاد کو بھی نہیں ہوتی۔ اولاد کی کامیابیوں کے پیچھے والدین کی دعائیں ہوتی ہیں۔ ان احساسات کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں