کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آف اسپنر سعید اجمل نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ 2011 کے بھارت کے ساتھ ہونے والے سیمی فائنل میں سچن ٹنڈولکر میری گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے تھے لیکن تھرڈ امپائر نے


ورلڈ کپ 2011 کے موہالی میں ہونے والے سیمی فائنل میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کا آمنا سامنا ہوا تھا اور اس میچ میں پاکستان کو 29 رنز سے شکست ہوئی تھی۔

اس میچ میں بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر نے شاندار بیٹنگ کی تھی اور سب سے زیادہ 85 رنز بناکر سعید اجمل ہی کی گیند پر کیچ اٰوٹ ہوئے تھے تاہم میچ میں جب سچن 23 رنز پر کھیل رہے تھے تو

سعید اجمل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے تھے۔ امپائر ای ین گولڈ نے انہیں آوٹ قرار دیا تھا تاہم تھرڈ امپائر بلی باوڈن نے انہیں ناٹ آوٹ قرار دے دیا۔


اب اس معاملے پر ایک بار پھر بحث گرم ہے جس پر اسپنر سعید اجمل نے بھی لب کشائی کی ہے۔ سعید اجمل کا کہنا ہے کہ اس وقت کے کپتان شاہد آفریدی کی ہدایت پر سیدھی بال کی جس پر

ٹنڈولکر صاف آوٹ تھے اور گیند سیدھی وکٹوں میں جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امپائر ای ین گولڈ نے آوٹ قرار دیا لیکن تھرڈ امپائر نے فیصلہ بدل دیا اور ڈی آر ایس میں گیند کے رخ کو ہی بدل دیا گیا اور

آخری فریم ڈیلیٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تھرڈ امپائر نے فیصلے میں 2 سے ڈھائی منٹ لگائے تھے، اگر سچن ٹنڈولکر کو آوٹ قرار دیا جاتا تو میچ پاکستان جیت سکتا تھا۔

اور اب ایل بی ڈبلیو آﺅٹ قرار دینے والے امپائر نے 9 سال بعد تہلکہ خیز انکشاف کر دیا ہے۔ این گولڈ نے بی بی سی لائیو سپورٹ میں گفتگوکر تے ہوئے کہا کہ ”

فیصلہ دینے کے بعد میں یہ دیکھ کر خوش ہوا کہ ٹنڈولکر میدان سے جانے والے ہیں لیکن اچانک انہوں نے ریویو لینے کا فیصلہ کرلیا۔ میں گارنٹی دیتا ہوں کہ اگر میں دوبارہ اس گیند کو دیکھوں گا تو

آﺅٹ ہی دوں گا، اتنی سی بات ہے۔ ٹنڈولکر نے گمبھیر کیساتھ گفتگو کی اور لگ رہا تھا جیسے وہ میدان سے جانے والے ہیں اور اس پر میں اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا لیکن پھر اچانک وہ مڑے اور

ریویو لینے کا اشارہ دیا جس کے بعد دنیا رک سی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ”آخر کار بلی باﺅڈن نے مجھے بتایا کہ گیند لیگ سٹمپ مس کر رہی ہے اور آپ کو اپنا فیصلہ بدلنا ہوگا۔

بہرحال میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں، لیکن میں 90 فٹ کی سکرین پر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور نظر آ رہا تھا کہ گیند لیگ سٹمپ سے ایک انچ دوری پرہے، میں حیران رہ گیا،

میرے ساتھ سائمن ٹافل تھے جنہوں نے بہت ساتھ دیا اور آخر کار یہ معاملہ بھی ایک لمحے کی طرح بن گیا۔ جب گیند پیڈ کیساتھ ٹکرائی، تو میں نے صرف سعید اجمل کی جانب سے

تیز بال ہوتے ہوئے دیکھی جو پیڈز کیساتھ ٹکرا کر سکوائر لیگ کی جانب چلی گئی، یہ بالکل ٹھیک تھا، وہ آﺅٹ ہے۔ معاف کرنا، تم آﺅٹ ہو، مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ تم کون ہو،

سچن ہو یا کوئی اور، تم آﺅٹ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ”ری پلے میں گیند کو لیگ سٹمپ مس کرتا دیکھ کر مجھے یقین نہیں آیا۔ ایسے معاملات آپ کو کسی نہ کسی موقع پر متاثر کرتے ہیں لیکن

بطور کھلاڑی جلد از جلد ان چیزوں کو بھولنا ہوتا ہے۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں یقین ہی نہیں کر پا رہا تھا کہ گیند لیگ سٹمپ مس کر رہی ہے، میرے ذہن میں ایک ہی چیز چل رہی تھی کہ

یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو فوراً کیا جا سکتا ہے، آﺅٹ۔ سچن ٹنڈولکر کو لیگ سائیڈ سے نیچے جاتی ہوئی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دینے کے بعد بہت سے ائیرپورٹس سے آپ نہیں گزر سکتے اور

ایسا کرنے سے پہلے آپ کوئی کپڑوں کی دکان ڈھونڈنا چاہیں گے، ویگ اور نقلی داڑھی حاصل کر نا چاہیں گے تاکہ لوگ آپ کو پہچان نہ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں