ورلڈکپ 2011 سیمی فائنل میں سعیداجمل کی گیندپر ٹنڈولکر کوآﺅٹ قرار دینے والےامپایر نے بڑا انکشاف کر دیا

47

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
آئی سی سی ایلیٹ پینل کےسابق رکن اور 2011ءورلڈکپ کے موہالی میں پاکستان اور بھارت کےدرمیان کھیلے گئے سیمی فائنل میں سچن ٹنڈولکر کوسعید اجمل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آﺅٹ قرار دینے والے امپائر نے 10 سال بعد تہلکہ خیز انکشاف کردیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2011ءکا سیمی فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان موہالی میں کھیلا گیا تھا جس میں سعید اجمل نے کھیل کے ابتداءمیں ہی لیجنڈ بلے باز

سچن ٹنڈولکر کیخلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی تو امپائر این گولڈ نے اپنی انگلی ہوا میں بلند کر کے انہیں فتح کی نوید سنا دی مگر کچھ توقف کے بعد ٹنڈولکر نے ریویو لے لیا اور

تھرڈ امپائر نے فیصلے کو بدلتے ہوئے انہیں ناٹ آﺅٹ قرار دیدیا جس پر خاصا تنازعہ بھی کھڑا ہوا کیونکہ ری پلے میں دکھائی گئی گیند کی موومنٹ مشکوک نظر آ رہی تھی۔


این گولڈ نے بی بی سی لائیو سپورٹ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ” فیصلہ دینے کے بعد میں یہ دیکھ کر خوش ہوا کہ ٹنڈولکر میدان سے جانے والے ہیں لیکن اچانک انہوں نے ریویو لینے کا فیصلہ کر لیا۔

میں گارنٹی دیتا ہوں کہ اگر میں دوبارہ اس گیند کو دیکھوں گا تو آﺅٹ ہی دوں گا، اتنی سی بات ہے۔ ٹنڈولکر نے گمبھیر کیساتھ گفتگو کی اور لگ رہا تھا جیسے وہ میدان سے جانے والے ہیں اور

اس پر میں اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا لیکن پھر اچانک وہ مڑے اور ریویو لینے کا اشارہ دیا جس کے بعد دنیا رک سی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ”آخر کار بلی باﺅڈن نے مجھے بتایا کہ

گیند لیگ سٹمپ مس کر رہی ہے اور آپ کو اپنا فیصلہ بدلنا ہو گا۔ بہرحال میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں، لیکن میں 90 فٹ کی سکرین پر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور نظر آ رہا تھا کہ

گیند لیگ سٹمپ سے ایک انچ دوری پر ہے، میرے ساتھ سائمن ٹافل تھے جنہوں نے بہت ساتھ دیا اور آخر کار یہ معاملہ بھی ایک لمحے کی طرح بن گیا۔ جب گیند پیڈ کیساتھ ٹکرائی، تو

میں نے صرف سعید اجمل کی جانب سے تیز بال ہوتے ہوئے دیکھی جو پیڈز کیساتھ ٹکرا کر سکوائر لیگ کی جانب چلی گئی، یہ بالکل ٹھیک تھا، وہ آﺅٹ ہے۔ معاف کرنا، تم آﺅٹ ہو، مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ تم کون ہو،

سچن ہو یا کوئی اور، تم آﺅٹ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ”ری پلے میں گیند کو لیگ سٹمپ مس کرتا دیکھ کر مجھے یقین نہیں آیا۔ ایسے معاملات آپ کو کسی نہ کسی موقع پر متاثر کرتے ہیں لیکن

بطور کھلاڑی جلد از جلد ان چیزوں کو بھولنا ہوتا ہے۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں یقین ہی نہیں کر پا رہا تھا کہ گیند لیگ سٹمپ مس کر رہی ہے، میرے ذہن میں ایک ہی چیز چل رہی تھی کہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو فوراً کیا جا سکتا ہے، آﺅٹ۔