کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان نےجہاں دنیائے کرکٹ کوعظیم کھلاڑی دیے وہیں چند کھلاڑی ایسے بھی آئے جن میں ٹیلنٹ تو بہت تھا، لیکن قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کھلاڑیوں میں کئی نے اپنے شروع کے میچز میں ریکارڈز بنائے جبکہ


کچھ کو تو مستقبل کا کپتان بھی قرار دیا گیا۔ لیکن حالات و واقعات اور کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں نے ان کھلاڑیوں کے کیریئر کو بریک لگادی۔

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ عتیق الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں جتنی کامیاب کہانیاں ہیں، اتنی ہی بھولی ہوئی داستانیں۔ اوران کا ذمہ دار کوئی اورنہیں خود پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کا سلیکشن کا معیارہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کھلاڑیوں کواپنا لوہا منوانے کے لیے مستقل مواقع ملتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

عتیق الرحمان کے بقول پاکستان میں کبھی کوئی کھلاڑی ایک سال بعد اور کبھی کوئی چھ سال بعد کم بیک کر رہا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہےکہ آسٹریلیا، بھارت اور سری لنکا جیسے

ممالک کے پاس ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار سے زائد رنز اسکور کرنے والے متعدد کھلاڑی ہیں اور ہمارے پاس صرف ایک کرکٹر ہے۔ عتیق الرحمان کےبقول “پاکستان کرکٹ میں

جتنی لمبی فہرست ہیروز کی ہے۔ اتنی ہی لمبی ان کھلاڑیوں کی ہے جن کو کم مواقع ملے۔ اگر آپ نام لکھنے بیٹھے تو ختم نہیں ہوں گے۔ ان میں زیادہ تروہ لوگ ہیں جن کےنام ریکارڈ بکس میں زندہ ہیں۔”

عتیق الرحمان کہتے ہیں کہ تقریباً 250 کھلاڑیوں نے پاکستان کےلیے ٹیسٹ کیپ حاصل کی جن میں سے 20 سے 25 ایسے ہیں جنہیں ایک میچ کے بعد دوبارہ موقع ہی نہیں ملا۔

چالیس سے 45 ایسے کرکٹرز ہیں جنہوں نے صرف ایک سےپانچ ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ نوے کے لگ بھگ کرکٹرز وہ ہیں جو صرف 10 میچ کھیل سکے۔ اوراس کے بعد انہیں کسی نے نہیں پوچھا۔

عتیق الرحمن کہتے ہیں کہ ان سوالوں کےجواب کرکٹ آفیشلز پر قرض ہیں کہ کیا ان کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کمی تھی؟ کیا انہیں سفارش کی بنیاد پر ٹیسٹ کیپ دی گئی تھی؟

کیا ان کی موجودگی سے دوسروں کوخطرہ تھا یا وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے موزوں نہیں تھے؟ ان کے بقول “پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بارے میں سوچنا چاہیےتاکہ آگے جا کر کھلاڑی

اچھی کارکردگی دکھائیں اور دیگرممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی 10 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے کئی کھلاڑی ہوں، نہ کہ صرف ایک یونس خان۔”

عتیق الرحمان کی بات میں دم ہے یا نہیں۔ یہ تو آپ کو ان کھلاڑیوں کی فہرست پر نظر ڈالنےسے ہی معلوم ہو گا جو آئے، چھائے لیکن کامیاب کہانی نہ بن سکے۔

بازید خان مڈل آرڈر بیٹسمین: یاسر حمید اوپنر: محمد وسیم مڈل آرڈر بیٹسمین: فیصل اقبال مڈل آرڈر بیٹسمین: یاسر عرفات آل راؤنڈر: عتیق الزمان وکٹ کیپر:

ارشد خان آف اسپنر: شاہد نذیر فاسٹ بالر: تنویراحمد فاسٹ بالر: ذوالفقار بابر لیفٹ آرم اسپنر: کبیر خان فاسٹ بالر: عبدالرقیب، مینیجر: یہ سب نام اس بات کاثببوت ہیں کہ پاکستان میں ٹیلینٹ کی قدر اس طرح ںہیں کی جاتی جس طرح ہونی چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں