کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
ہر کوئی جانتا ہےکہ پاکستان کرکٹ ٹیم دنیا کی ایک ایسی کرکٹ ٹیم ہے جس کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی- یہ ٹیم کھیل کے میدان کب کیا کارنامہ انجام دے گی؟ اس کے بارےمیں کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا-


گزشتہ 9 سالوں کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں- لیکن کچھ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کئی ایسے حیران کن عالمی اعزازات کی مالک ہےجنہیں حاصل کرنے کی خواہش دنیا کے

ہر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی میں موجود ہے- آئیے ہم آپ کوپاکستان کرکٹ ٹیم کے ان ورلڈ ریکارڈز کے بارے میں بتاتے ہیں جو ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں-

امتیاز احمد پہلےایسے وکٹ کیپر تھے جنہوں نے ڈبل سینچری اسکور کی-

وسیم باری پہلے ایسےوکٹ کیپر تھے جنہوں نے ایک ہی ٹیسٹ میچ میں وکٹوں کے پیچھے سے 7 کیچ پکڑے- یہ میچ آکلینڈ میں منعقدا ہوا- کرکٹ کی تاریخ میں ایک ہی ٹیسٹ میچ میں 7 کیچ پکڑنے والے صرف 3 وکٹ کیپر ہیں-

جاوید میانداد کرکٹ کی تاریخ کےوہ واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنے 50ویں اور 100ویں ٹیسٹ میچ میں ایک ایک سینچری اسکور کی-

پاکستان کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان اور بہترین باؤلر وسیم اکرم کو اپنے ملک کے لیے 6 ریکارڈ قائم کرنے کا اعزاز حاصل ہے- ان میں ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ اسکور(257)٬ سب سے زیادہ چھکے (12)٬ آٹھویں وکٹ پر

سب سےطویل پارٹنر شپ٬ ٹیسٹ میچز میں 13 بار مین آف دی میچ٬ مسلسل دو بار ہیٹ ٹرک اور ایک روزہ اور ٹیسٹ میچ دونوں میں ہی دو دو مرتبہ ہیٹ ٹرک کرنے کا ریکارڈ شامل ہے-

انضمام الحق نے اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں سب سےزیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا جو کہ 184 رنز تھے- اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے Gorden Grange کے پاس اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں 149 رنز بنانے کا ریکارڈ تھا جسے انضمام الحق نے توڑ دیا-

یاسر حمید وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نےاپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سینچریاں بنائیں-

ماجد خان ان چار کھلاڑیوں میں سب سےپہلے نمبر پر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ میچ میں دوپہر کے وقفے سے قبل ہی سینچریاں اسکور کر لی تھیں- ماجد خان نے 1976 میں نیوزی لینڈ سے ہونے والے ایک ٹیسٹ میچ میں وقفے سے قبل 108 رنز بنائے-

سب سے کم عمر میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کا اعزازحسن رضا کے پاس ہے- انہوں نے جب اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تو اس وقت ان کی عمر صرف 14 سال اور 227 دن تھی-اس سے قبل بھی یہ اعزاز پاکستانی کھلاڑی مشتاق احمد کے پاس تھا جنہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 15 سال کی عمر میں کھیلا-

سال 1997 میں اظہر محمود اورمشتاق احمد نے 10ویں وکٹ کی پارٹنر شپ پر 151 رنز بنائے- تاہم یہ پرانے ریکارڈ کے برابر اسکور تھا اس لیے ریکارڈ ٹوٹ نہیں سکا-

اپنا تبصرہ بھیجیں