کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لائیک کریں شکریہ
مایہ ناز سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ٹیم انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جدید دور کی کرکٹ کی تقاضوں کے مطابق نہ صحیح انتخاب کررہے ہیں اور نہ کھیل رہے ہیں۔ پی ٹی وی سپورٹس پر وکٹ کیپر بلے باز


محمد رضوان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قومی ٹیم میں اپنی جگہ محفوظ نہیں سمجھنی چاہیئے۔

شعیب اختر نے کہا کہ جب تک پاکستان جیت رہا ہو وہاں کوئی ناانصافی نہیں ہے، اگر کوئی ٹیم میں اپنی جگہ کھو دیتا ہے تب بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ایک سلسلہ چل رہا ہوتا ہے جس پر تنقید کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

ہم ٹیم مینجمنٹ کی حمایت کرتے ہیں تاکہ وہ صحیح فیصلے کرسکیں۔ اب جبکہ سیریز ختم ہوگئی ہے تو میں پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کر چیخ رہا ہوں کہ اس قسم کی کرکٹ نہ کھیلو، یہ قابل قبول نہیں ہے۔

شعیب اختر نے کہا کہ آپ نہیں جانتے کہ رضوان کے ساتھ آپ کو کیا کرنا ہے، رضوان کو بھی سوچنا شروع کرنا چاہیئے، یہ کسی کے چچا کی ٹیم نہیں ہے

جس میں آپ کو ہر فارمیٹ میں اوپننگ کرنے کا موقع ملے گا، ٹیم میں آپ کو جو بھی رول دیا جائے آپ کو اس میں ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ جب تک پاکستان جیت رہا ہو

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کون ہے یا وہ کہاں سے آرہا ہے ، ایک کھلاڑی کو میری خواہشات کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور جدید دور کی کرکٹ کی ضروریات کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

یہ اتنا ہی آسان ہے، اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو باہر جانے کا راستہ موجود ہے، آپ وہاں سے نکل سکتے ہیں، بدتمیزی نہ کریں اور انہیں منتخب نہ کریں۔ 45 سالہ شعیب اختر نے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر زور دیا کہ وہ قومی ٹیم میں پسماندہ ذہنیت کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ

پی سی بی کو قومی ٹیم میں موجود پسماندہ ذہنیت کا نوٹس لینا چاہئے، وہ اسے آگے لے جارہے ہیں اور نہیں ہونا چاہئے، انہیں انتظامیہ کو سخت پیغام بھیجنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں