کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
شعیب اختر کہتے ہیں کہ آپ نے میچ تو دیکھ ہی لیا ہوگا کہ ٹھیک ٹھاک پھینٹا لگایا ہے اور بڑا میچ جیتا ہے،اس کے ساتھ ہی وہ مسکرائے اور کہا کہ نہیں نہیں ،میں مذاق کر رہا ہوں .پاکستان بہت مشکل سے یہ سیریز جیتا ہے.


اپنے آفیشل یوٹیوب چینل پر راولپنڈی ایکسپریس کہتے ہیں کہ پاکستان اچھی کرکٹ کھیلنے میں کامیاب ہوگیا، مجھے دکھ تھا کہ جنوبی افریقا سے جیت کر آنے والی ٹیم کہیں یہ سیریز زمبابوے کو نہ پکڑادیں.

میں اتنے عرصہ سے بول رہا ہوں کہ شرجیل کو پہلے کھلادیتے. فخرزمان کو نچلے نمبرز پر نہیں کھلایا جاسکتا، مسئلہ ہوگا، پاکستان جلدی سے اپنی ٹیم درست کرلے،

پوری ٹیم، قوم بلکہ ہمیں بھی ٹینشن میں ڈالا ہوا ہوتا ہے کہ کہیں یہ ہار نہ جائیں. پاکستان سے اسکواڈ سیٹ نہیں ہو پارہا.بابر اعظم کو اپنے آپ کو سیٹ کرنا پڑے گا،میں محمد رضوان کو مبارکباد دیتا ہوں،


انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ کمال کھیلے، اگر ہمیں انکی مڈل آرڈر میں ضرورت پڑے گی تو وہاں بھی پرفارم کریں. شعیب اختر نے واضح کہا ہے کہ مڈل آرڈر میں بڑی خرابی ہے.

ٹیم کو سیٹ کرنا ہوگا، بائولنگ میں گڑ بڑ ہے، اسے دور کرنی ہوگی. انہوں نے واضح الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے مجھے خیال آیا کہ پاکستان زمبابوے کو کہیں یہ سیریز نہ پکڑادے،

بڑی بدنامی اورذلت ہوتی جسے برداشت کرنا آسان نہیں تھا. شعیب اختر نے بھی کھل کر سسٹم اور سلیکشن پرتنقید کی ہے. قومی ٹیم نے جنوبی افریقا اور زمبابوے میں محدود اوورز کرکٹ کے 10 میچزکھیلے ہیں،

ان میں سے 7جیتے ہیں اور 3 ہارے ہیں لیکن تمام فتوحات گھس گھس کر ملی ہیں، سب میں مڈل آرڈر کی نا کامی ہی وجہ بنی ہے. تمام نئے پلیئرز نا کام ہوئے اور تمام پرانے کھلاڑی مذاق بن گئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں