کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کی زمبابوے سے شکست ہو تو کسی تکلیف نہیں ہوگی، سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی اپنے یوٹیوب چینل پر ایک کلاس لگائی ہے اور کہتے ہیں کہ ہار سے سبق ملتا ہے، سیکھنے کو ملتا ہے لیکن


ایسی ہار سے کوئی سبق ملتا نہیں ہے بلکہ پشیمانی اور شرمندگی بٹورتے ہیں. چوتھے درجہ کی رینکنگ ٹیم کا مقابلہ 12ویں درجہ کی سیکنڈ کلاس ٹیم سے کیا بنتا تھا لیکن ہم ہار گئے ہیں.

رمیز راجہ نے کہا ہے کہ آپ کا ہارنا بنتا نہیں تھا لیکن آپ اس لئے ہار گئے کیونکہ آپ ہارنے سے ڈرتے ہیں. سارے سسٹم کو ہائی جیک کر لیتے ہیں، سارا نظام ہی خراب ہوگیا.

اب بیسٹ ٹیم کھلا کر بھی ہارجاتے ہیں.یہ ایک ڈارک موومنٹ ہے پاکستان کرکٹ کے لئے سیاہ دن ہے، اس کی فوری جواب طلبی ہونی چاہئے. جو نئے پلیئرز کھلائے گئے،


ان سے ہمارے ڈومیسٹک سسٹم کی گندی تصویر گئی، بے تکی رننگ کی گئی. شاٹس کا علم نہیں، اوور کانفیڈنس دیکھا گیا، ہماری کرکٹ کو جھٹکا لگا، اسپانسرز اور فینز کو برا لگا،

کھیلنے والے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے. میں صاف کہوں گا کہ ایسے لوگوں کو کٹہرے میں لانا ہوگا جو پاکستان کا برین ٹیسٹ ہے، اسے بہادری دکھانا ہوگی،

نئے پلیئرز کونہ کھلانا، ہارنے کا خوف رکھنا اور احمقانہ باتیں کرنا بے تکی سی بات ہے. پاکستانی بیٹنگ لائن موزربانی کے خلاف کتنی تھرڈ کلاس لگی، اس کی مثال ایک ایسے

چوہے کی ہے کہ جب وہ گاڑی کی فلڈ لائٹس کے سامنے آتا ہے تو فریز ہوجاتا ہے اور پاکستانی ٹیم بھی اس میچ میں کچھ ایسی ہی لگ رہی تھی، جیسے چوہا ریڈ لائٹس کے سامنے پھنس گیا ہو.

رمیز راجہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہم ایک تھرڈ کلاس ٹیم سے ہارے ہیں، اس پر کتنا بھی تبصرہ اور جتنا بھی غصہ کیا جائے کم ہے، اس کو ایسے چھوڑا ہی نہیں جاسکتا.

اپنا تبصرہ بھیجیں