اس کھلاڑی کو کیوں نہیں کھلایا.؟ شعیب اختر کی بابر اعظم پر کڑی تنقید،حیران کن بات کہہ دی

158

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
ٹا س ہاتھ میں نہیں تھا لیکن سلیکشن ہاتھ میں تھی،پاکستان نے میچ جیت لیا،زیادہ تنقید نہیں کی جاسکتی بائولرز پر کیونکہ وکٹ اچھا تھا.شعیب اختر کہتے ہیں کہ جب شرجیل آپ کے پاس ہیں،ان کو کیوں نہیں کھلایا.


شعیب اختر نے جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ٹی 20 میچ میں کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کی سلیکشن پر کڑی تنقید کی ہے. شعیب اختر کہتے ہیں کہ شرجیل کو اوپنر ہونا چاہئے،

فخر اور شرجیل سعید انور اور عامر سہیل بن سکتے ہیں. بابر نمبر 3پر کھیل سکتے ہیں. فخرزمان کو جب کھلا لیا تو اس کو اوپنر بھیجو، پاکستانی ٹیم کو اٹیکنگ کرکٹ کھیلنی ہوگی،

یہ درمیان کا راستہ نہیں چلے گا، فخر پہلے پاور پلے میں 80 اسکور کرسکتا ہے، سلیکشن تگڑی کریں، رضوان کو نیچے لائیں، شرجیل اور فخر کو اوپنرز لانا ہوگا. محمد نواز نے اپنی سلیکشن درست ثابت کی،


حسن علی نے بھی 2 وکٹیں لیں،اہم اسکور کئے.دونوں نے پرفارم کیا،حفیظ کو بھی 2 اوورز کرنے چاہئے تھے. شعیب اختر کہتے ہیں کہ اگر آپ نے 170والی کرکٹ کھیلنی ہے تو دنیا کی کرکٹ سے نکل جائو گے،

اس لئے بابر اعظم کا اوپنر آنا نہیں بنتا، اوپننگ کے لئے ہرحال میں شرجیل اور فخر کو لانا ہوگا، اگلے میچز میں کمبی نیشن سیٹ کریں. پاکستان کر کٹ ٹیم کو مبارک ہو کہ وہ جیتے لیکن

یہ جیت با وقار نہیں ہے، ایسی ٹیم کہ جس کے لڑکے چھوڑ چھاڑ کر چلے گئے ہوں، ان کے خلاف اتنا لگ کر جیتنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، ٹکا کر پھینٹا لگایا جائے، جیت اپنی ہوگی.

شعیب اختر کی بابر اعظم پر تنقید جائز ہے، ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ بابر کو اوپننگ چھوڑنی ہوگی کیونکہ جب شرجیل کی سلیکشن ہوئی ہے تو اسے ہی اوپنر لانا ہوگا،

بھلے اس کے ساتھ رضوان ہی رہیں کیونکہ ٹی 20میں رائٹ لیفٹ کاکمبی نیشن سیٹ ہوگا اور رضوان بھی اور بہتر ہونگے لیکن فخر زمان کو اگر ٹی 20 میں لانا ہے تو پھر فخر اور شرجیل کی ہی جوڑی سجتی ہے.