فخرزمان اپنی 193 رنزکی اننگ سے ناخوش، ٹوٹے دل کے ساتھ ایسی بات کہہ دی ،پاکستانیوں کے دل جیت لیے

104

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
جوہانسبرگ میں جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں تابڑ توڑ چھکے لگانے اور 193رنزکی اننگ کھیلنے والے فخرزمان پاکستان کی شکست پر نہایت ہی افسردہ اور مایوس دکھائی دیئے، انہوں نے اپنی اس اننگ کو


انہوں نےاپنی اس اننگ کوبہترین یاکسی بھی نوعیت کا ٹائٹل دینے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ معذرت بھی کی. فخر کا انداز شکوہ والا تھا،انہوں نے کہا کہ میرے ذہن میں یہ بات موجود تھی کہ

اوسط بڑھتی جارہی ہے لیکن کوشش کر رہا تھا کہ بہتر کھیل سکوں لیکن جب ساتھ میں بیٹسمین موجود نہ ہو تو کئی سنگلز ضائع کرنے پڑتے ہیں،اسٹرائیک اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لئے گیندیں بھی ضائع ہوتی ہیں.

فخر زمان کے لئے بد قسمتی یہ رہی کہ جب پاکستان کا اسکور صرف 120تھا تو 5آئوٹ ہوگئے تھے اور 205تک 7وکٹ گر گئے تھے. آخری 11اوورز میں ان کا ساتھ دینے کے لئے کوئی بھی نہیں تھا


یہی وجہ ہے کہ فخر کو بھر رک رک کر لاٹھی چارج کرنا پڑا،ہدف چونکہ بڑا تھا اس لئے تمام کاوشیں ناکام گئیں. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اپنی اس اننگ کو

بہترین یا یادگار قرار نہیں دے سکتا کیونکہ اس کا پاکستان کرکٹ ٹیم کو فائدہ نہیں ہوا،اگر جیت جاتے تو میں اسے خود ٹائٹل دیتا لیکن اب میں اسے کبھی اچھی اننگ نہیں مانوں گا .193 رنزبنانے والے

فخر زمان مین آف دی میچ قرارپائے لیکن پاکستان 17رنز سے ہارگیا، کمال بات یہ رہی کہ پروٹیز کے 341میں کسی کی بھی سنچری نہیں تھی. شکست کے بعد میڈیا سے گفتگو میں

بابر اعظم نہایت افسردہ، مایوس اور دل گرفتہ دکھائی دیئے، انہوں نے کہا کہ میں نے ہر نئے آنے والے بیٹسمین سے صرف ایک ہی بات کی کہ وکٹ مشکل نہیں ہے،

رنزبنائے جاسکتے ہیں، صرف 15 سے 20 بالز وکٹ پررکنے کی کوشش کرو لیکن بدقسمتی سے مجھے وہ پارٹنر اور شراکت نہیں ملی جس سے مجھے سپورٹ ملتی اور پاکستان میچ جیت جاتا ،