ورلڈکپ 92، میچ میں شکست پر نصرت فتح کی قوالی سنتے تھے، رمیز راجہ نے جیت کا قلیہ بتا دیا

126

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
کمنٹیٹر اور 1992 کے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے رمیز راجہ نے کہاہے کہ 92 کے ورلڈکپ میں جب کسی میچ میں شکست ہوتی تھی تو ڈریسنگ روم میں نصرت فتح علی خان کی قوالی سنتے تھے۔


اپنے ویڈیو پیغام میں رمیز راجہ نے کہا کہ ورلڈکپ 1992 پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا سب سے سنہرا لمحہ ہے، ہماری جیت نے قوم کو جو خوشی دی وہ قابلِ دید تھی۔

انہوں نے ورلڈکپ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بہت بڑا ایونٹ تھا اور ہم نے اس ایونٹ سے بہت کچھ سیکھا، ہماری ٹیم چھوٹی تھی لیکن مقصد بڑا تھا، ہماری جیت کا مقصد اسپتال بنانا تھا۔

مقصد نیک اور بڑا تھا جس میں اوپر والے سے رابطہ بھی تھا۔انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت کمال کی تھی جس نے ایک چھوٹی سی ٹیم کو ایک ورلڈ چیمپئن بنا دیا۔