ورلڈ کپ 1992ء کے دوران انضمام کوپرچی’۔۔ راشد لطیف نےحیران کن انکشاف کر دیا

149

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
سابق کرکٹر راشد لطیف نے انکشاف کیا ہے کہ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف 60 رنز کی گیم چینجنگ اننگز کھیلنے سے قبل لوگ بیٹنگ لیجنڈ انضمام الحق کو ’پرچی‘ کہتے تھے۔ یوٹیوب ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے


سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ انضمام کی مذکورہ بالا اننگز نے ان کا کیریئر ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔ راشد لطیف نے کہا کہ انضمام اور مشتاق احمد یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) میں کھیلتے تھے،

انضمام کو پہلے خود کو سٹریٹ کرکٹ میں ثابت کرنا تھا، کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ انضمام ایک اچھا کھلاڑی ہے، لوگ انہیں پرچی کہتے تھے لیکن ہم نے انہیں

یو بی ایل میں کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ 1992ء ورلڈ کپ کے سیمی فائنل نے راتوں رات انضمام الحق کا کیریئر تبدیل کردیا۔ انضمام نے حال ہی میں ایک ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ


وہ سیمی فائنل سے ایک دن پہلے ٹھیک محسوس نہیں کررہے تھے اورسیمی فائنل نہیں کھیلنا چاہتے تھے۔ انضمام الحق کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے پہلے میں بیمار تھا،

میں نے مشتاق احمد سے کہا کہ وہ عمران خان سے کہیں کہ میں بیمار ہوں اور سیمی فائنل نہیں کھیل سکوں گا، مشتاق واپس آئے اور انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ نہیں انضمام ضرور کھیلے گا۔

جاوید میانداد 9 اننگز میں 437 رنز بنا کر ٹورنامنٹ کے دوسری کامیاب ترین بلے باز رہے۔ میانداد نے ٹورنامنٹ میں 5 نصف سنچریاں سکور کیں اور راشد لطیف کے بقول وہ پاکستان کے ایسے ہیرو تھے

جنہیں شاید اتنی پذیرائی نہیں ملی ۔ انہوں نے کہا کہ جاوید میانداد پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ میں سب سے اہم مقام رکھتے تھے، اگرچہ انضمام نے سیمی فائنل میں زبردست اننگ کھیلی لیکن اس کے باوجود میانداد ورلڈ کپ کے ہر میچ میں رنز بنا رہے تھے۔