پاکستان اور بھارت کےمابین ٹی ٹونٹی سیریز کب ہونے جا رہی ہے؟ بھارتی ٹیم پاکستان کادورہ کب کرے گی، فصیل جانیے

156

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
کرکٹ ایک بار پھر پاکستان اوربھارت کو قریب لانے کا ذریعہ بننے لگی، پاکستان اور بھارت کے درمیان حال ہی میں امن بحالی کی کوششوں کے بعد امید کی ہلکی سی کرن اب اس جانب اشارہ دے رہی ہےکہ


اس سال روایتی حریفوں کےدرمیان مختصر ٹی ٹونٹی سیریز ہو سکتی ہے۔ پی سی بی کے ایک افسر سےکرکٹ ڈپلومیسی کے بارے میں سوال کیا گیا تو پہلے انہوں نے انکار کیا تاہم پھر

یہ اشارہ دیا ہےپاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کے سلسلے میں ہم سے براہ راست کسی نے بات نہیں کی لیکن ایسے اشارے ضرور مل رہے ہیں، ہمیں کہا گیا ہےکہ تیاری رکھیں۔

میڈیا نمائندوں کے رابطے پر پی سی بی چیئرمین احسان مانی کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہم سے ابھی تک کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہم بھارتی کرکٹ بورڈ کے ساتھ اس بارے میں بات چیت میں شرکت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی بی جے پی حکومت میں ہی پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ سیریز بحال ہوئی ہے۔ یہ کوششیں کرنے والے وہی لوگ جن کی کوششوں سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے مابین امن کے وسیع تر روڈ میپ میں کرکٹ کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنایاگیا ہے۔ دونوں روایتی حریفوں کےدرمیان آخری دو طرفہ سیریز 13-2012ء میں بھارت میں کھیلی گئی تھی

جس میں 2 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز 1-1 برابر رہی تھی جب کہ پاکستان نے ون ڈے سیریز میں 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی،9 سال قبل ہونے والی اس سیریز کے بعد دونوں ملکوں کےدرمیان صرف

آئی سی سی ایونٹس اور ایشیاء کپ میں مقابلہ ہوتا آرہا ہے۔پی سی بی ذرائع کا کہنا تھا اگر اس سال سیریز قابل عمل ہوتی ہےتو بھارتی ٹیم پاکستان کادورہ کرے گی کیوں کہ آخری بار پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔

اس سال بھی بھارت میں ٹی ٹونٹی ورلڈکپ اکتوبر میں ہونا ہے۔ بھارتی میڈیا میں بھی ایسی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ اس سال پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر ٹی ٹونٹی سیریز ہوسکتی ہے۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستانی ٹیم کاشیڈول مصروف ہے لیکن اگر دونوں حکومتوں کے درمیان کرکٹ سیریز کھیلنے پر اتفاق ہوتا ہےتو3 ٹی ٹونٹی میچوں کیلئے 6 دن کی ونڈو نکالنا مشکل نہیں ہوگا۔