پاکستانی کرکٹرز کےمقبول ترین ورلڈ ریکارڈ، جس میں سےکچھ تو ٹوٹ گیےاور کچھ ابھی تک قایم ہیں

83

کرکٹ سےجڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
ہرکوئی جانتا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم دنیا کی ایک ایسی کرکٹ ٹیم ہے جس کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی- یہ ٹیم کھیل کےمیدان کب کیا کارنامہ انجام دے گی؟ اس کےبارے میں کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا-


گزشتہ 9 سالوں کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں- لیکن کچھ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کئی ایسے حیران کن عالمی اعزازات کی مالک ہےجنہیں حاصل کرنے کی خواہش دنیا کے

ہرکرکٹ ٹیم کے کھلاڑی میں موجود ہے-آئیے ہم آپ کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ان ورلڈریکارڈز کے بارے میں بتاتے ہیں جو ہمارےلیے باعثِ فخر ہیں-

امتیازاحمد پہلے ایسےوکٹ کیپر تھے جنہوں نے ڈبل سینچری اسکور کی-

وسیم باری پہلےایسےوکٹ کیپر تھے جنہوں نے ایک ہی ٹیسٹ میچ میں وکٹوں کے پیچھےسے 7 کیچ پکڑے- یہ میچ آکلینڈ میں منعقدا ہوا- کرکٹ کی تاریخ میں ایک ہی ٹیسٹ میچ میں 7 کیچ پکڑنےوالے صرف 3 وکٹ کیپرہیں-

جاویدمیانداد کرکٹ کی تاریخ کےوہ واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنے 50ویں اور 100ویں ٹیسٹ میچ میں ایک ایک سینچری اسکور کی-

پاکستان کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان اوربہترین باؤلر وسیم اکرم کو اپنے ملک کے لیے 6 ریکارڈ قائم کرنے کا اعزازحاصل ہے- ان میں ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ اسکور(257)٬ سب سےزیادہ چھکے (12)٬ آٹھویں وکٹ پر

سب سےطویل پارٹنر شپ٬ ٹیسٹ میچز میں 13 بار مین آف دی میچ٬ مسلسل دو بار ہیٹ ٹرک اورایک روزہ اورٹیسٹ میچ دونوں میں ہی دو دو مرتبہ ہیٹ ٹرک کر نے کا ریکارڈ شامل ہے-

انضمام الحق نےاپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں سب سےزیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا جو کہ 184 رنز تھے- اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے Gorden Grange کے پاس اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں 149 رنز بنانےکا ریکارڈ تھا جسے انضمام الحق نے توڑ دیا-

یاسر حمید وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نےاپنےپہلے ہی ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سینچریاں بنائیں-

ماجد خان ان چار کھلاڑیوں میں سب سے پہلے نمبر پر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ میچ میں دوپہر کے وقفے سے قبل ہی سینچریاں اسکور کرلی تھیں- ماجد خان نے 1976 میں نیوزی لینڈ سے ہونے والے ایک ٹیسٹ میچ میں وقفےسے قبل 108 رنز بنائے-

سب سےکم عمر میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کا اعزاز حسن رضا کےپاس ہے- انہوں نے جب اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تو اس وقت ان کی عمرصرف 14 سال اور 227 دن تھی-اس سے قبل بھی یہ اعزاز پاکستانی کھلاڑی مشتاق احمد کےپاس تھا جنہوں نے اپناپہلا ٹیسٹ میچ 15 سال کی عمر میں کھیلا-

سال 1997 میں اظہر محمود اورمشتاق احمد نے 10ویں وکٹ کی پارٹنرشپ پر 151 رنز بنائے- تاہم یہ پرانے ریکارڈ کے برابر اسکور تھا اس لیےریکارڈ ٹوٹ نہیں سکا-