سوشل میڈیا کی،سلیکشن کی وجہ سے پاکستان کرکٹ مسلسل،زوال پذیر ہے، راشد لطیف نے حیران ن با کہہ دی

102

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سلیکشن کی وجہ سے پاکستان کرکٹ مسلسل زوال پذیر ہے۔ سرکاری سپورٹس چینل پر گفتگو کرتے ہوئے 52 سالہ راشد لطیف کا کہنا تھا کہ تمام پی ایس ایل فرنچائزز کے


پی ایس ایل فرنچائزز کے سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس ہیں اور انھیں سب کو خوش رکھنا ہوتا ہے، ہر ایک نے اپنے بندے رکھے ہوئے ہیں جبکہ فرنچائزز اور سلیکشن کمیٹی میں بھی اپنے لوگ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پر تو جیت رہے ہیں مگر قومی ٹیم 7ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے، سلیکشن کمیٹی کا ہر رکن بھی قومی ٹیم میں اپنی مرضی کے کھلاڑی لاتا ہے،

یوں لگتا ہے کہ فیصلے پسند نا پسند کی بنیاد پر کیے جارہے ہیں ،یہ بھی خدشہ ہے کہ ان میں سے کچھ فیصلے پی سی بی کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے بھی ہوسکتے ہیں۔

راشد لطیف کا مزید کہنا تھا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں خیبرپختونخوا کی جانب سے عرفان اللہ شاہ کو بائولنگ کرتے دیکھا، قائداعظم ٹرافی میں کراچی کے فلیٹ پچ پر بھی پرانی بال سے ان کی گیندوں میں موومنٹ دیکھنے کو ملی لیکن

انہیں پی ایس ایل میں موقع نہیں دیا گیا،عبداللہ شفیق اچھے کرکٹر ہیں لیکن ان کو قومی ٹیم میں چانس دینے میں جلد بازی کی گئی، اوپنر عمران بٹ کو مزید آزمانے کا بہتر فیصلہ کیا گیا لیکن

کوئی یہ بتائے کہ حسین طلعت اور خوشدل شاہ کو گیندیں ہی کتنی کھیلنے کو ملی تھیں، انھوں نے ایسا کیا غلط کیا کہ ڈراپ ہوگئے۔ راشد لطیف نے کہا کہ عبداللہ شفیق، شاہنواز دھانی اور

وسیم جونیئر نئے کھلاڑی ہیں، پشاور زلمی کے محمد عمران ان سے زیادہ با صلاحیت کھلاڑی ہیں لیکن ان کی رفتار 140کلومیٹر فی گھنٹا نہیں ہے، محمد عمران کی سپیڈ 130 کلومیٹر فی گھنٹا ہے لیکن

وہ اپنی ویری ایشن کی مدد سے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں مشکل پیسر ثابت ہوسکتے ہیں البتہ وہ سوشل میڈیا پر دیگر کھلاڑیوں کی طرح توجہ نہیں حاصل کرپائے اس لیے قومی سکواڈ میں بھی شامل نہیں ہیں، دیگر بائولرز کا پرفارمنس اور اکانومی ریٹ کو دیکھا جائے تو ان کی جگہ بنتی ہے