کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کےسابق کھلاڑی اینڈریو سٹراس کا کہنا ہےکہ اچھا پرفارم نہ کرنے پر مجھے ٹیم سے نکالے جانے کاخوف تھا، یہ خوف میری کار کردگی کو بری طرح متاثر کر رہا تھالیکن اس خوف پرقابو پانے میں مجھے


محمد یوسف کےفلسفے کہ” سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہو تا ہے، آپ کے اپنے ہاتھ میں کچھ نہیں ہو تا” نےمدد کی اور میں کامیابی کی طرف چل پڑا . غیر ملکی میڈیا کے مطا بق ایک انٹرویو میں اینڈریو سٹراس نے کہا کہ

”ایک وقت تھا جب میں اپنے کیریئر سے مایوس ہو گیا تھا اور سوچتا تھا کہ میں بہت جلد ٹیم کا حصہ نہیں رہوں گا، مجھے لگتا تھا کہ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہا، اور میں خود سے

ایک جنگ میں مصروف تھا مگرپھر محمد یوسف کا فلسفہ میرے کام آیا. میں نے یہ جنگ ایک سال تک لڑی اور نیوزی لینڈ کے خلاف ایک میچ میں میری زندگی بدل گئی،


اس میچ میں سب کویقین تھا کہ اگر میں نے پرفارم نہیں کیا تو ایک لمبے عرصے کیلئے مجھے ٹیم سے نکال دیا جائے گا اورمیرا کیریئر داؤ پر لگ جائے گا،

تب میں نے محمد یوسف کےفلسفے سے مدد لی، میں نے سوچا کہ اگر یہ میرا آخری میچ ہے تو میں اس حقیقت کو بدل نہیں سکتا، اگر اللہ کی طرف سے مجھے ٹیم سے باہر نکالنے کا فیصلہ ہوچکا ہے تو میں

اس کو بدل نہیں سکتا تو مجھے پریشان ہونے کے بجائے اس میچ کو اپنے پہلے میچ کی طرح مزے لیتے ہوئے کھیلنا چاہیے تاکہ میں اس کو یادگار میچ بنا سکوں، اس کے بعد ٹیم سے نکال دیا گیا تو

یہ اللہ کا فیصلہ ہو گا، تو جو ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور سب کچھ اسکے قابو میں ہے، چنانچہ میں اپنا خوف ختم کرکے میدان میں اترا اور میری توقع کے برعکس میں 177 رنز کی اننگز کھیل گیا،

اس کےبعد میں ایک کامیابی کے سفر پر چل پڑا، میری کامیابی کاراز محمد یوسف کا فلسفہ ہے. انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے محمد یوسف سے بہت کچھ سیکھا، وہ پہلے یوسف یوحنا تھے اور

انکی ٹیسٹ ایوریج 40 تھی لیکن پھر وہ پھر وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان محمد یوسف بنے اور انکی زندگی بدل گئی اور انہوں نے فکر چھوڑ دی کہ جو کرتا ہے اللہ ہی کر تا ہے، اور

میں نےدیکھا کہ محمد یوسف اگلے 3 سالوں میں اپنی ایوریج 70 تک لے گئے. اسکی وجہ یہ تھی کہ محمد یوسف نےبیٹنگ کی زیادہ پرواہ کرنا چھوڑ دی تھی، وہ محنت کرتے تھے مگر

خوف یا ڈر میں مبتلا نہیں ہوتے تھے اور انہوں نے سوچ لیا تھا کہ جو ہو تا ہے اللہ کی طرف سے ہو تا ہے، یہ میرے لئے بہت فائدہ مند تھا کیوں کہ اب مجھے یقین ہوگیا تھا کہ جو ہونا ہے ہو کے رہے گا.

اینڈریو سٹراس نے کہا کہ اگرمیں نے کبھی نوجوانوں کو کوئی بات سکھائی تو یہی بات سکھاؤںگا. یاد رہے کہ سابقہ ٹیسٹ بیٹسمین محمد یوسف ستمبر 2005 میں اسلام قبول کرکے یوسف یوحنا سےمحمد یوسف ہو گئے تھے.

اپنا تبصرہ بھیجیں