ڈیل سٹین نےپی ایس ایل کو آئی پی ایل سے بہت بہترقرار دے دیا،فرق بھی بتا دیا

127

کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پی ایس ایل 6 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنیوالے جنوبی افریقی فاسٹ بائولر ڈیل سٹین کا خیال ہے کہ دنیا کی دیگر لیگز کے مقابلے میں آئی پی ایل میں صرف پیسے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک خصوصی انٹرویو میں 37 سالہ ڈیل سٹین کا کہنا تھا کہ


آئی پی ایل میں پیسوں کی چکا چوند کے دوران کھلاڑی کرکٹ بھول جاتا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے آئی پی ایل کے گزشتہ سیزن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا ۔

ڈیل سٹین کا کہنا تھا کہ میں کچھ وقت فارغ رہنا چاہتا تھا، میں نے محسوس کیا کہ ان دیگر لیگزمیں کھیلنا بطور کھلاڑی قدرے زیادہ فائدہ مند تھا، میرا خیال ہے کہ جب آپ آئی پی ایل میں جاتے ہیں تو

بڑے سکواڈز اور بڑے بڑے ناموں کے باعث شاید اس پر زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ کس کھلاڑی کو کتنے پیسے مل رہے ہیں اور اس صورتحال میں لوگ کرکٹ کو بھول جاتے ہیں۔

ڈیل سٹین کا مزید کہنا تھا کہ جب آپ پی ایس ایل یا سری لنکن پریمیئر لیگ کھیلنے جاتے ہیں تو وہاں آپ کو کرکٹ کی ایک خاص اہمیت نظر آتی ہے۔ انہیں پاکستان آئے صرف ایک یا دو دن ہوئے ہیں لیکن انہیں کمرے میں اور باہر لوگ ملتے ہیں جو صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ

وہ کہاں کہاں کھیلے ہیں اور کیا تجربہ حاصل کیا جبکہ آئی پی ایل میں صرف یہ سوال ہوتا ہے کہ اس سال آئی پی ایل میں آپ کی کتنی بولی لگی ہے؟، میں مکمل سچائی سے بتا رہا ہوں کہ میں ایسی چیزوں سے دور رہنا چاہتا ہوں اور اچھی ٹیموں اور ٹورنامنٹس میں کھیلنا چاہتا ہوں۔

ڈیل سٹین کا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مسلسل 3 شکستوں کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہیں لیکن پشاور زلمی کے خلاف کامیابی ملنے کی خوشی ہوتی، 3 میچز میں ایک کامیابی ملنا ہمارے لیے بہت ہی اچھا ہوتا۔

انہوں نے پی ایس ایل 6 میں 2 میچز کھیل کر نیشنل ڈیوٹی کے واپس جانے والے کرس گیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کرس گیل تھوڑا سا پاگل ہے ، وہ ٹی ٹونٹی کا بادشاہ ہے۔

لیکن ان کی جگہ کھیلنے والے لڑکے بھی بہت اچھے ہیں ۔ فاف ڈو پلیسی یہاں موجود ہیں اور ٹام بینٹن گذشتہ دو سالوں سے اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ

صرف ایک کھلاڑی آپ کو میچز جتوا سکتا ہے بلکہ اس کے لیے ہر ایک کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوتا ہے۔ ڈیل سٹین نے ساتھی کھلاڑی اعظم خان کے ساتھ ماہی گیری کی کہانیاں بانٹنے کے بارے میں بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے بارے میں کچھ تصاویر اور کہانیاں شیئر کررہے ہیں۔ بدقسمتی سے جب آپ بائیو سیکیور ببل میں ہیں تو آپکو ہوٹل سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی،

ہم بعد میں اس حوالے سے منصوبے بنائیں گے لیکن ابھی ہم اپنی ماہی گیری کی کہانیوں کے بارے میں بات نہیں کرتے اور کرکٹ پر توجہ دیتے ہیں، امید ہے کہ کرکٹ ختم ہوجائے گی تو ہم ماہی گیری پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں اور کرکٹ کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔