پاکستان میں 8 سال کرکٹ کھیلی لیکن ایک موٹرسائیکل بھی نہیں خرید پایا‘ عمران طاہر نےدل کی باتیں کردیں

24

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے سپن باؤلر عمران طاہر کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں آٹھ سال تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی لیکن وہ ایک موٹر سائیکل بھی نہیں خرید پائے۔ تفصیلات کے مطابق


عمران طاہر نے بتایا کہ پاکستان میں کھلاڑیوں کا مستقبل نہیں ہے، اگر ان کی نوکری ختم ہوجائے تو ان کے پاس روزگار کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ کئی اچھے کھلاڑی

کرکٹ چھوڑ کر دوسری نوکریاں شروع کردیتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں معاملہ اس سے مختلف ہے، انہوں نے ابھی کھیلنا چھوڑا بھی نہیں ہے اور جنوبی افریقہ نے انہیں کوچنگ کی آفر کردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ لاہور میں ایک دکان پر کام کرتے اور ساتھ کرکٹ کھیلا کرتے تھے، وہ موقع کی تلاش میں تھے جو انہیں انڈر 19 کے ٹرائل میں ملا، انہوں نے پاکستان ٹیم کے ساتھ دو تین ٹور کیے،


انہوں نے یہاں آٹھ سال تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی لیکن انہیں کسی نے نوکری پر نہیں رکھا، آخر میں انہیں پی آئی اے نے نوکری دی تھی، جب وہ پاکستان سے جنوبی افریقہ گئے تو وہ اپنی کمائی سے ایک موٹر سائیکل تک نہیں خرید پائے تھے۔

عمران طاہر کے مطابق پاکستان میں فرسٹ کلاس کا سٹینڈرڈ بہت ہائی ہے، یہاں کھلاڑی دو، دو دن تک آؤٹ نہیں ہوتے ۔ اگر کسی کھلاڑی نے 10 سے 15 سال تک فرسٹ کلاس کھیلی ہے تو کرکٹ بورڈ کو اس کے روزگار کا بھی بندوبست کرنا چاہیے۔

ملتان سلطانز کے پی ایس ایل میں چیمپیئن بننے کے امکانات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران طاہر نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کو چیمپیئن بنوانے کیلئے ہی پاکستان آئے ہیں، اگرچہ ان کی ٹیم کا آغاز اتنا اچھا نہیں رہا لیکن اگلے میچز میں وہ بہتر پلاننگ کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔