پی ایس ایل میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال ہونے جا رہی ہے کہ پوری دنیاحیران

199

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
نیشنل انکوبیشن سینٹر کراچی سے وابستہ نوجوان انجینئر نے پی ایس ایل مقابلوں کے دوران اسٹیڈیم کو ڈرون کے ذریعے سینیٹائز کرنے کی پیش کش کی ہے۔ پاکستان میں سول مقاصد کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کو عام کرنے والے باصلاحیت نوجوان


سید عظمت نے پاکستان کرکٹ بورڈ، کراچی کی انتظامیہ اور سندھ حکومت کو پیش کش کی ہے کہ وہ پاکستان میں تیار کردہ ہیوی لوڈ اٹھانے والے ڈرونز کے ذریعے پی ایس ایل کے

میچز کے دوران کرکٹ اسٹیڈیمز کو سینیٹائز کرسکتے ہیں۔ سید عظمت نے کہا کہ ڈرون سے اسٹیڈیم کو سینیٹائز کرنے کی صورت میں پاکستان یہ ٹیکنالوجی کھیلوں کے لیے

موثر انداز میں استعمال کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا، ساتھ ہی دنیا کے سامنے ڈرون ٹیکنالوجی میں پاکستان کی مہارت بھی اجاگر کی جاسکے گی۔ سید عظمت نے کہاکہ ڈرون کی مدد سے کرکٹ اسٹیڈیم کے


ایک ایک چپے کو انتہائی درستگی کے ساتھ سینٹائز کیا جاسکتا ہے۔ اس تکنیک کا عملی مظاہرہ جمعرات کو این ای ڈی یونیورسٹی میں واقع این آئی سی سے ملحقہ گرانڈ کو سینیٹائز کرکے بھی کیا جاچکا ہے۔

سید عظمت نے دعوی کیا کہ نیشنل اسٹیڈیم کو ان کے تیار کردہ جدید ڈرون سے سینیٹائز کرنے میں ایک گھنٹہ لگے گا اور آپریشنل لاگت بھی روایتی طریقے کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل ایک موثر پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے دنیا میں پاکستان کی ٹیکنالوجی پر دسترس اور نوجوانوں کا ٹیلنٹ بھی موثر طریقے سے اجاگر کیا جاسکتا ہے،

میدان میں ڈرون کے ذریعے ٹرافی لانے کا تجربہ بھی آج تک کسی ملک میں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پی ایس ایل اسپانسر کرنے والی کمپنیاں بھی شائقین تک انعامات پہنچانے کے لیے ڈرون استعمال کرسکتی ہیں۔