تعمیری اور بامعنی تنقیدسے سیکھتا ہوں لیکن،غصے میں“ قومی ٹیم کی تاریخی فتح پر وقار یونس نے بھی حساب چکتا کر دیا

84

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے باﺅلنگ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ میں تعمیری اور بامعنی تنقید سے سیکھتا ہوں لیکن غصےمیں کی جانے والی تنقید کے بارے میں نہ سوچتا ہوں اور نہ میرے پاس کا جواب دینے کیلئے وقت ہے۔


تفصیلات کے مطابق باﺅلنگ کوچ وقار یونس نے آن لائن پریس کانفرنس میں میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہو ئے کہا کہ ہر کھیل کی بنیاد پرفارمنس ہوتی ہے اور جب پرفارمنس نہیں ہوتی تو

سکروٹنی تو ہو گی جو کہ فطری بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تنقید ہونی چاہیے کیونکہ اس سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے لیکن بے معنی تنقید نہیں ہونی چاہیے جبکہ کرکٹ کمیٹی صرف ہار پر نہیں بلکہ

جیت پر بھی بلانا چاہئے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا اچھا کیا جس کی وجہ سے کامیابی ملی تاکہ جیت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا پلان کیا جا سکے۔


وقار یونس نے کہا کہ ہم سب پاکستان ٹیم کی جیت چاہتے ہیں، جو تنقید کرتے ہیں وہ بھی جیت چاہتے ہیں، ہمیں کسی کو نیچا نہیں دکھانا اور نہ ہی کسی کو جواب دینا مقصد ہے۔ ہم جذباتی قوم ہیں، میں بھی جذباتی ہوں،

ہم جذباتی پن میں کچھ ایسا بول جاتے ہیں کہ دوسروں کو دکھ ہوتا ہے۔ نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر سے کوچز ٹیم کے ساتھ آئے تو یہ سلسلہ اچھا لگا، ایسے رابطے رہنے چاہئیں، ان کے آنے سے ہم نے خود کو غیر محفوظ نہیں سمجھا،

ہم میچور لوگ ہیں، ہمیں کسی سے ڈر نہیں اور نہ ہم غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ وقار یونس نے کہا کہ جیت ہمیشہ اچھی لگتی ہے، اس پر سب کو خوشی ہوتی ہے،

جیت کیلئے ہر کھلاڑی نے محنت کی ہے، اس کا کریڈٹ سب کو جاتا ہے، سپورٹ سٹاف نے بھی بہت محنت کی، سپورٹ سٹاف کی محنت بعض اوقات نظر نہیں آتی لیکن جیت کا کریڈٹ سپورٹ سٹاف کو بھی جاتا ہے۔