وقار یونس نےڈریسنگ روم میں لنچ میں کیا ہدایات دی تھیں؟حسن علی نےحیران کن انکشاف کر دیا

353

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں نئی گیند کے پروٹیز کیلئے وبال جان ثابت ہونے پر قومی ٹیم کے باؤلرز بھی حیران پریشان رہ گئے


تفصیلات کے مطابق ٹیسٹ میچز میں آخری روز کی کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کیلئے ٹیمیں بہت سوچ سمجھ کر نئی گیند لینے کا فیصلہ کرتی ہیں کیونکہ ریورس سوئنگ اور

سپنرز کو مدد نہ ملنے کے ساتھ تیزی سے رنز بننے کا خدشہ بھی ہوتا ہے تاہم پاکستان نے یہ مشکل فیصلہ کرتے ہوئے پروٹیز کی بساط ہی لپیٹ دی اور اس حوالے سے

حسن علی نے کہا کہ ہماری سوچ تھی کہ نئی گیند سے جنوبی افریقی ٹیم کیلئے مشکلات پیدا کریں گے لیکن درحقیقت بہت کچھ ہی ہوگیااور ہم فتح کا مشن مکمل کرنے میں ہی کامیاب ہو گئے۔


ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میچ کے آخری روز جب کھانے کے وقفے پر ڈریسنگ روم میں گئے تو باﺅلنگ کوچ وقار یونس نے کہا کہ ہمت نہیں ہارنی، اگر جنوبی افریقی ٹیم اچھا کھیل کر جیت گئی تو یہ الگ بات ہے لیکن

ہمیں آخری وقت تک مقابلہ کرنا ہے، اس کے بعد ہم نے جیت کا عزم لئے ہوئے باﺅلنگ کی اور وکٹیں حاصل ہوتی گئیں، میں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتے ہوئے لائن و لینتھ برقرار رکھنے سے توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا،

شاہین شاہ نے بھی اچھا ساتھ دیا۔ راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے ہیرو حسن علی نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں کم بیک کرنے والے ہر کھلاڑی پر دباﺅ ہوتا ہے لیکن میں فٹنس بحال ہونے پر

مسلسل نو فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی بدولت ردھم میں آ چکا تھا اور یہی وجہ ہے کہ جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور اس تاریخی جیت میں اہم کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوا۔