نعمان علی نے عمدہ کارکردگی سے یاسر شاہ پر دباؤ کم کردیا مگر کیسے؟مشتاق احمد بھی بول پڑےحیران کن بات کہہ دی

115

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
سابق ٹیسٹ لیگ سپنر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ نعمان علی نے عمدہ کارکردگی سے یاسر شاہ پر دباؤ کم کردیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مشتاق احمد نے کہا کہ یاسر شاہ کو دوسرے اینڈ سے مدد نہیں ملتی تھی کیونکہ

کیونکہ بدقسمتی سے فاسٹ بولرز وکٹیں نہیں حاصل کرپارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چیف سلیکٹر محمد وسیم کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ انھوں نے نعمان علی کو منتخب کیا، جنھوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے

یاسر شاہ پردباو کم کردیا، میں اور ثقلین مشتاق اسی طرح ایک دوسرے کو سپورٹ فراہم کرتے تھے، میں وکٹیں لیتا تو ساتھی سپنر دباؤ قائم رکھتے تھے، یاسر اور نعمان کی جوڑی نے بھی

کراچی ٹیسٹ میں وکٹیں حاصل کیں، نعمان علی کو ایک پختہ کار بولر کے طور پر ایکشن میں دیکھنا خوش آئند ہے، سپنر کی صلاحیتیں نکھارنے کیلیے کام کرنے والے ریجنل کوچز اور دیگر افراد کی خدمات کو سراہنا چاہیے۔

مشتاق احمد نے کہا کہ یاسر شاہ کو اب بھی اپنی گگلی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اس سے ان کی لیگ بریک اور فلپرز بھی مزید موثر ہوجائیں گی۔ مشتاق احمد نے کہا کہ کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کی فتح ٹیم اور مینجمنٹ کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل تھی،

اس سے سب کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، فواد عالم نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین اننگز کھیلی، میں نے بہت کم کرکٹرز کو اس طرح کے مشکل حالات میں ایسی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے دیکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بابر اعظم کا پوری دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلاڑی کے پاس جاکر ان کی غلطیوں سے آگاہ کرنا خوش آئند ہے، ٹیم کو جس برانڈ کی کرکٹ کھیلنا ہے اس کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے پلیئرز کے ساتھ اس انداز میں بات کرنا ضروری ہے،سابق کپتان مصباح الحق،یونس خان اور وقار یونس بھی ایک صفحے پر رہتے ہوئے رہنمائی کریں تو بابر اعظم کپتانی کے گر بہت تیزی سے سیکھ سکتے ہیں۔

مشتاق احمد کو سپن بولنگ میں پاکستان کا مستقبل محفوظ نظر آنے لگا، سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا ہے کہ وائٹ بال کرکٹ میں عثمان قادر کی بولنگ میں نکھار آیا ہے،ڈومیسٹک میچز میں بھی انھوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا،

محمد زاہد چار روزہ مقابلوں میں بھی وکٹیں لے رہے ہیں،ساجد خان ایک اچھا آف اسپنر اور اس کی گیندوں میں جان نظر آتی ہے۔ ہمیں شاداب خان اور یاسر شاہ سمیت ایسے سپنرز میسر ہیں جن کی صلاحیتوں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے،

انڈر19سطح پر بھی دو یا تین باصلاحیت سلوبولرز نے مجھے متاثر کیا،صرف سلیکٹرز کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کس فارمیٹ کیلیے کون سا اسپنر موزوں ہے اور اگر کسی کی انجری ہو تو اس کا متبادل کون ہوگا۔