پاکستانی کھلاڑی اگر یہ تسبیح کرنا شروع کردیں تو جیت جائیں گے، رمیز راجہ نے حیران کن بات کہہ ڈالی

102

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کے ساتھ کیا ہوا،پہلے ہی روز 14وکٹیں گر گئیں،اس پر کیا بات ہو؟ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کہتے ہیں کہ اس پرفارمنس کو کیسے دیکھا جائے،ارادے روز بنتے ہیں اور بن کرٹوٹ بھی جاتے ہیں۔


اپنے یوٹیوب چینل پر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے بہت مایوس کیا کیونکہ بائولرز کی محنت پر پانی پھر رہا ہے۔ پروٹیز پیسرز نےا چھی بال کی۔ مان لیتے ہیں کہ

پاکستانی اوپنرز آئوٹ آف فارم ہیں، مان لیا کہ فٹنس بحالی کے بعد بابر کی پہلی اننگ تھی لیکن 220 پر آئوٹ کرنے کے بعد بھی لگ رہا ہے کہ بنی بنائی اچھی صورتحال کو

ایک نیگیٹو سوچ نے خراب کردیا، لگتا ہے کہ کرکٹرز فل وقت کسی ایسے خوف میں رہتے ہیں کہ ابھی کچھ خراب ہونے لگا ہے۔ بیٹنگ میں ردھم نہیں تھا، ایسا لگا کہ ہر کوئی اپنی وکٹ بچا رہا ہے۔

پاکستان کے لئے مقابلہ مشکل ہو گیا، اگر پروٹیز نے لمبی لیڈ لے لی تو پھر جیتنا مشکل ہوگا، ٹیم جب ہار رہی ہوتو اس چکرسے نکلنا بھی ممکن نہیں رہتا۔ پاکستان کو دوسرے دن فائٹ بیک درکار ہوگی۔

پاکستان نے بائولنگ اچھی کی، فیلڈنگ اچھی تھی لیکن بیٹنگ میں ناکامی ہوگئی، اس پریشر سے نکلنا ہے، آپ گھر پر کھیل رہے ہیں، ان کو تسلی ہونی چاہئے کہ ہم بچ جائیں گے، ٹیسٹ کرکٹ میں بہت وقت ہوتا ہے۔

ایک سیشن غلط ہو تو 2سیشن اچھے بھی چل سکتے ہیں، اعتماد کے ساتھ کھیلنا ہوگا۔حسن علی، رضوان اور یاسر اچھی بیٹنگ کرلیتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک موقع آئے گا، جب شاٹ کھیلیں گے تو پریشر سے نکلنا ہوگا۔

جنوبی افریقا ٹیم میں اتنا اچھا ٹیلنٹ نہیں ہے،پاکستان کے پاس منحصر ہے کہ وہ کیسے بیک کرتے ہیں، گھر میں کھیلنے کا سوچ کر اچھا کام بھی کرسکتے ہیں۔ رمیز راجہ در اصل قومی کھلاڑیوں کو

یہ بتارہے ہیں کہ وہ ایک بات کی تسبیح کرلیں کہ گھر میں کھیل رہے ہیں، گھر میں کھیل رہے ہیں۔ چنانچہ بچ جائیں گے۔ پاکستانی کھلاڑی یہ تسبیح شروع کر دیں، ماضی میں تو اس تسبیح سے نہیں بچے، اب شاید بچ جائیں۔