یہ چیز پاکستانی کپتان اور کوچ کے گلے پڑ گئی ہے، انضمام الحق نے حیران کن بات کہہ ڈالی

97

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان جنوبی افریقا ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل پر اپنے تبصرے میں انضمام الحق نے کہا کہ پہلے بھی کہا تھاکہ اگر اوپننگ اسٹینڈ اچھا ہو تو سب اچھا چلتا ہے لیکن پاکستان نے آئوٹ آف فارم اوپنر عابد علی کے ساتھ


عابدعلی کےساتھ عمران بٹ کو کھلادیا جو کہ ڈیبیو کر رہے تھے، یہ دبائو ٹیم پر آگیا کہ ایک آئوٹ آف فارم کے ساتھ ایک نئے لڑکے کو بھیج دیا، دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے

فہیم اشرف کو کھلادیا، دوسری ٹیمیں 3فاسٹ بائولرز سے کھیلتی ہیں، پروٹیز کے پاس کوئی اعلیٰ کوالٹی اسپنر ز نہیں ہیں، ان کی مجبوری ہے کہ وہ فاسٹ بائولرز کھلائیں،

اب دونوں کی بائولنگ کو دیکھ لیں کہ پروٹیز نے لائن سے گیند کی، پاکستان نے اگر آل رائونڈر ہی کھلانا تھا تو نواز کو کھلادیتے، کسی اور کولیتے، میرا خیال ہے کہ پاکستانی منیجمنٹ وکٹ کو درست نہیں پڑھ سکی،

سلیکشن درست نہیں ہوئی، پچ غلط پڑھ لی۔ اسپن پچ بنانا ایک آرٹ ہے۔ ایسی پچ پر چوتھی اننگ کھیلنا مشکل ہوجائے گا کیونکہ عابد علی اور شاہین کے لئے بالز نیچے بیٹھ گئیں،

عمران بٹ کے لئے اٹھ گئی۔ اب 10 فیصد چانس ہے کہ ایسی وکٹ اگلے روز ڈیڈ ہوسکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پچ دب جاتی ہے اور گھنٹے بعد اور کریک آجاتے ہیں، کھیلنا مشکل ہوجائے گا۔

انضمام اپنےیوٹیوب چینل پر کہتے ہیں کہ پاکستان کے لئے چوتھی اننگ میں 200 یا 250 کو پورا کرنا مشکل ہوجائے گا کیونکہ اس پچ پر بال اوپر نیچے ہو رہا ہے، ٹرننگ پوائنٹ نہیں بن رہا، ہم سے اچھی پچز نہیں بن رہی ہیں۔

یاسر شاہ جس لیول کا اسپنر ہے،میرے خیال میں اس نے ویسی بائولنگ نہیںکی،پروٹیز کی موجودہ ٹیم اتنی اچھی نہیں ہے ،یاسر اکیلے ہی اڑاسکتے تھے لیکن اس نے اچھی بال نہیں کی۔

پاکستان کے سابق چیف سلیکٹر انضمام کے نزدیک ہماری بائولنگ اتنی اعلیٰ نہیں تھی، ڈیبیو کرنے والے اسپنر نعمان علی نے بھی اعلیٰ گیند کی لیکن بہت ہی اچھی نہیں تھی۔

اب پاکستان کا 2کھلاڑیوں پر انحصار ہوگا تو پاکستان کو ایک 100رنزکی پارٹنر شپ درکار ہے، اظہر اور فواد انتظار کرکے کھیلیں تو پاکستان میچ میں واپس آسکتا ہے۔پہلا سیشن اہم ہوگا۔ پاکستان کو دوسرے دن سنبھل کرجانا ہوگا۔