جنوبی افریقہ کو شکست دینے کیلئے ٹیم میں کسے شامل کرنا ہو گا؟انضمام الحق نے اہم مشورہ دیدیا

141

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیف سلیکٹر اور قومی ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان دو فاسٹ باؤلرز، دو سپنرز اور ایک آل راؤنڈر کے ساتھ میدان میں اترے،


پروٹیز کو قطعی مختلف کنڈیشنز کا چیلنج درپیش ہو گا، بابر اعظم مختصر فارمیٹ میں قیادت کر چکے اس لئے جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کوئی اضافی دباؤ محسوس نہیں کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان انضمام الحق نے کہاکہ طویل عرصے بعدکسی ٹاپ رینک ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا خوش آئند ہے،

سیریز میزبان ٹیم کیلئے بہت اہم ہوگی کیونکہ سکواڈ میں شامل کئی کھلاڑیوں نے ابھی تک اپنے ہوم گراﺅنڈ پر ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا، سینئرز نے اپنی انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز ہی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں کیا،

ایک نئے کھلاڑی کیلئے اس سے اچھا کیا ہوسکتا ہے کہ اسے بالکل ویسی کنڈیشنز پر ڈیبیو کا موقع مل جائے جہاں نمایاں کارکردگی کی بدولت اسے منتخب کیا گیا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ بابراعظم نے محدود طرز کی کرکٹ میں ثابت کردکھایاکہ ان پر کپتانی کا کوئی اضافی دباؤ نہیں ہے، وہ بیٹنگ اور کپتانی دونوں ذمہ داریاں نبھانے کیلئے تیار ہیں،

انجری کے بعد واپسی کا دباؤ ان کے ذہن میں ضرور ہوگا لیکن وہ باصلاحیت اورپریشر سے نکلنے کا ہنر جانتے ہیں، نئے کھلاڑیوں کی سکواڈ میں شمولیت کے باوجود پاکستان ٹیم ٹیسٹ سیریز جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے، کنڈیشنز جنوبی افریقہ کیلئے کسی صورت آسان نہیں ہوں گی۔

سابق ٹیسٹ کپتان نے کہا گوکہ نیوزی لینڈ میں نتائج پاکستان کے حق میں نہیں رہے مگر ان کنڈیشنز میں ٹیم کی کارکردگی بری نہیں تھی، کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہو گا،

پروٹیز نے اپنی ہوم سیریز میں سری لنکا کو شکست دی ہے مگر پاکستان میں جنوبی افریقی ٹیم کو قطعی کنڈیشنز کا چیلنج درپیش ہو گا، کراچی میں پاکستان کا ریکارڈ بہت اچھا ہے،

آخری سیشن میں گیند ریورس سوئنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے، پاکستان ٹیم کو دو فاسٹ باؤلرز، دو سپنرز اور ایک آل راؤنڈر کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے، یہی کمبی نیشن ان کنڈیشنز پر سازگار بھی رہتا ہے۔