انضمام الحق کا غصہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا بابراعظم نے بال پکرسے قومی ٹیم کے کپتان تک کے مشکل سفر کی دلچسپ داستان سنا دی

102

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آغاز 26 جنوری سے نیشنل سٹیڈیم کراچی میں ہو رہا ہے جس میں بابراعظم قومی ٹیم کی قیادت کر کے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی قیادت کا اعزاز حاصل کر لیں گے


جنہوں نے بال پکر سے قومی ٹیم کی قیادت ملنے تک کے مشکل سفر کی دلچسپ داستان سنائی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ نے 2007ءمیں لاہور میں ٹیسٹ میچ کھیلا تو بابر اعظم نے باؤنڈری لائن پر بال پکڑا تھا اور

آج اسی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔ بابراعظم کو اپنا یہ سفر ایک خواب کی طرح محسوس ہوتا ہے جب 14سال قبل جنوبی افریقی ٹیم کے دورہ پاکستان کے موقع پر وہ میدان سے باہر باؤنڈری پر کھڑے ایک غیرمعروف ’بال پکر‘ تھے لیکن

14سال بعد وہ قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔جنوبی افریقہ کی ٹیم 14 سال بعد پاکستان کا دورہ کر رہی ہے اور آخری مرتبہ 2007 میں جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔

اس سیریز کی خاص بات یہ تھی کہ یہ قومی ٹیم کے عظیم بلے باز اور سابق کپتان انضمام الحق کی آخری ٹیسٹ سیریز تھی جنہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑ کر ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا

سب سے کامیاب بلے باز بننے کیلئے محض چند رنز ہی درکار تھے لیکن وہ پال ہیرس کی گیند پر سٹمپ ہو کر یہ ریکارڈ نہ توڑ سکے۔لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں باؤنڈری لائن کے باہر

ایک بچہ بال پکر کی حیثیت سے کھڑا یہ سب مناظر دیکھ رہا تھا اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم تھے جن کی آنکھوں میں آج بھی وہ منظر محفوظ ہے جنہوں نے بتایا کہ

انضمام الحق کا ڈریسنگ روم میں جا کر غصے سے بیٹ مارنے کا لمحہ آج بھی یاد ہے۔ تینوں فارمیٹ میں پاکستان کے کپتان نے کہا کہ کرکٹ کے نامور ستاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کا شوق انہیں قذافی سٹیڈیم کھینچ لایا اور

وہ اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے 2007ءمیں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ میں بال پکر بنے، ایک بال پکر کی حیثیت سے نہ صرف باؤنڈری کراس کرنے والی گیندیں پکڑتے بلکہ کھلاڑیوں کو ناکنگ بھی کرواتے تھے۔

انہوں نے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انضمام الحق کے ٹیسٹ کیرئیر کا آخری میچ تھا اور انہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کیلئے مزید دو رنز درکار تھے مگر وہ سٹمپ ہوکر پویلین واپس لوٹے۔

سابق کپتان کے پویلین واپس لوٹنے اور ڈریسنگ روم میں غصے سے بیٹ مارنے کا منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے، پاکستان کی نمائندگی ایک خواب تھا اور اسے حقیقت بنانے کیلئے بہت محنت کی،

2007 میں بال پکر سے 2021 میں قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے کے اس سفر میں بہت قربانیاں دی ہیں اور اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے سخت جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ

پاکستان کے سابق ٹیسٹ سپنر عبدالرحمان کی گیند پر جین پال ڈومنی نے چھکا لگایا تو باؤنڈری کے دوسری طرف کھڑے ہو کر میں نے کیچ باآسانی تھام لیا جس پر کمنٹیٹر ای این بشپ نے

میری تعریف بھی کی تھی، ہم جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں بہترین کارکردگی کیلئے پرعزم ہیں اور اپنی کارکردگی کی بدولت سیریز جتوانے کی بھرپور کوشش کروں گا۔