میاں داد کاریکارڈ نہ ٹوٹنے پر انضمام نے ڈریسنگ روم میں کیا کیا؟بابر اعظم نے 14 سال بعد بتادیا

399

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستانی کپتان بابر اعظم نے نہایت کم وقت میں ڈیبیو میچ سے قومی کپتان بننے کا سفر طے کیا ہے لیکن اس سے قبل کی ان کی محنت اور جنون بھی ان کے بہت کام آیا ہے.


کھیل سے لیکر بال پکر بننے اور آگے بڑھنے کے لئے انہوں نے بہت محنت کی. زندگی کا یہ سفر ابھی جاری ہے، بابر کی مختصر کہانی یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ محنت ضائع نہیں جاتی.

پاکستان کرکٹ بورڈ بابراعظم کے حوالہ سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے ان کے14 سال کے دوران بال پکر سے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے تک کا سفربیان کیا ہے.

بابر اعظم کہتے ہیں کہ 2007 میں انضمام الحق کے کرکٹ کیرئیر کا وہ آخری میچ تھا، سابق کپتان کے پویلین واپس لوٹنے اور ڈریسنگ روم میں،غصے سے بیٹ مارنے کا منظر آج بھی میرے آنکھوں کے سامنے ہے،


کرکٹ اسٹارز کو دیکھنے کے شوق نے بال پکر بنایا، پاکستان کی نمائندگی ایک خواب تھا، اسے حقیقت بنانے کے لیے بہت محنت کی. 26جنوری سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی قیادت بابراعظم کریں گے،

یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب بابراعظم کسی ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی قیادت کریں گے.دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کا پہلا میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور دوسرا پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا تاہم بابراعظم کے کرکٹ کیرئیر میں قذافی اسٹیڈیم لاہور کا کردار بہت اہم ہے کہ

جہاں سال 2007 میں آخری مرتبہ پاکستان آنے والی مہمان ٹیم نے ایک ٹیسٹ میچ کھیلا تھا، بابراعظم اس ٹیسٹ میچ میں بطور بال پکر گراؤنڈ میں موجود تھے۔ کپتان قومی ٹیسٹ ٹیم بابراعظم کا کہنا ہے کہ

کرکٹ نامور ستاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کا شوق انہیں قذافی اسٹیڈیم کھینچ لایا، وہ اپنی خواہش پر 2007 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ میں بال پکر بنے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک بال پکر کی حیثیت سے نہ صرف باؤنڈری کراس کرنے والی گیندیں پکڑتے بلکہ کھلاڑیوں کو ناکنگ بھی کرواتے تھے، یہ انضمام الحق کے ٹیسٹ کیرئیر کا آخری میچ تھا،

انہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے مزید 2 رنز درکار تھے مگر وہ اسٹمپ ہوکر پویلین واپس لوٹے۔ بابراعظم نے کہا کہ انضمام الحق کے پویلین واپس لوٹنے اور ڈریسنگ روم میں،غصے سے بیٹ مارنے کا منظر انہیں آج بھی یاد ہے۔

قومی ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ ان کے کرکٹ کیرئیر کا یہ سفر آسان نہیں رہا، دوہزار سات میں بال پکر سے دوہزار اکیس میں قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے کے اس سفر میں انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں،

اس دوران انہوں نے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بھی سخت محنت کی۔ بابراعظم نے کہا کہ وہ اے بی ڈویلئیرز کے بہت بڑے فین تھے اور 2007 میں جاری سیریز کے دوران وہ جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی قذافی اسٹیڈیم میں ٹریننگ دیکھنے وہاں موجود رہتے تھے،

انہیں آج بھی یاد ہے کہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ اسپنر عبدالرحمٰن کی گیند پر جے پی ڈومنی نے چھکا لگایا تو باؤنڈری کے دوسری طرف کھڑے ہوکر انہوں نے کیچ باآسانی تھام لیا، جس پر کمنٹیٹر این بشپ نے ان کی تعریف کی۔