لاہور والوں نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، بابر اعظم کا نیا انکشاف، حیران کن بات کہہ دی

434

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ کیریئر کے آغاز میں مجھے جب کرکٹ کی سخت ضرورت تھی تو لاہور والوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ریجن کرکٹ کی ٹیم سے نکال دیا، ہم پریشان ہو گئے۔


بابر اعظم نے کہا کہ لاہور نے مجھے 2سیزن میں ٹی20 میں ڈالا، پیڈ ون ڈائون کے لئے کرکے بیٹھا لیکن مجھے 8ویں نمبر پر بھیجا گیا، دوسری بار بھی ایسا کیا گیا،

تیسری بار انہوں نے مجھے نکال دیا تو کیریئر کے آغاز میں مجھے مشکل پیش آئی۔ بابر اعظم، انضمام الحق کے یوٹیوب چینل پر خصوصی گفتگو کر رہے تھے،قومی ٹیم کے کپتان نے

سابق کپتان انضمام الحق کو بتایا کہ لاہور کے اس سلوک کے بعد مجھے راولپنڈی سے شیخ صاحب کا فون آیا کہ اسلام آباد سے کھیل لو، میں چلا گیا۔ میں ہوٹل کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا تھا تو

مجھے گرائونڈ کے مالی کے کمرے میں رکنا پڑا، میں نے ایسے 2سیزن کھیلے، ہمت نہیں ہاری، جس وقت مجھے کرکٹ کی ضرورت تھی لاہور والوں نے نہیں کھلایا۔ مجھے اسلام آباد سے فرسٹ کلاس کرکٹ ملی، ون ڈے کرکٹ ملی۔

بابر اعظم نے بتایا کہ شروع کی کرکٹ میں والد صاحب میرے اور کزنوں کے لئے کھانا لاتے تھے تو ہمیں علم ہوجاتا تھا کہ انہوں نے نہیں کھایا تو ہم کہ دیتے تھے کہ ہم نے کھالیا ہے، آپ کھائیں۔ اس پر انضمام نے کہا کہ جس نے بھی والدین کی عزت کی ہے، اللہ نے اسے اس دنیا ہی میں بادشاہ بنادیا ہے۔

بابر نے یہ بھی بتایا کہ پہلا بیٹ والدہ کے پیسوں سے خریدا، والد صاحب ہر میچ دیکھنے آتے تھے، بعض میچز میں چھپ کر آتے اور چلے جاتے، بعد میں مجھ سے پوچھتے تو میں اگر جلد آئوٹ ہوگیا ہوتا تو غلط جواب دیتا تھا، اس پر میری پٹائی ہوتی تھی کہ جھوٹ بولتے ہو۔

بابر نے بتایا کہ انڈر 19پر بھی مجھ پرالزام لگتا تھا کہ میرا اسٹرائیک ریٹ اچھا نہیں ہے، ٹی وی کے میچ کا پلیئر نہیں ہے، میں اس کو مثبت لیتا تھا کہ اس کا حل کیسے کرنا ہے اور پھر میں امپروو کرتا گیا۔

نیوزی لینڈ میں ان فٹ ہونے اور نہ کھیل سکنے کا دکھ ہے اور ہار پرافسوس ہے لیکن میں اگر ان فٹ ہوں بھی تو ٹیم پاکستان کی بڑی ہے، ٹیم ہے تو بابر اعظم ہے ورنہ کچھ بھی نہیں۔

بابر نے بتایا کہ شروع کے ٹیسٹ میچز میں 50سے 60 کرکے آئوٹ ہوجاتا تھا، میں نے غور کیا تو مجھے لگا کہ میں ریلیکس ہوجاتا تھا، یہ غلطی تھی، منفی سوچ تھی، اس کو ٹھیک کیا،مجھے سمجھنے میں وقت لگا۔


بابر اعظم نے انضمام الحق کے ساتھ گفتگو کرتے ہوے بتایا ہے کہ اس وقت کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے مجھے ٹیسٹ میچ کے لئے بیک کیا، سب نے کہا کہ یہ ٹیسٹ کا پلیئر نہیں ہے لیکن اس بندے نے مجھے آئوٹ آف دی وے جاکر سپورٹ کیا، دعویٰ کیا کہ مجھے کھلائیں گے اور پھر کھلایا۔

انہوں نے مجھے یقین دلایا، بیک کیا، سینئرز کو بھی ساتھ ملایا تو بہتر ہو تا گیا۔ قومی ٹیم کے کپتان نے سابق کپتان انضمام الحق کو بتایا کہ میرا نام کوہلی اور کین ولیمسن کے ساتھ لیا جاتا ہے تو

مجھے اس سے اعتماد ملتا ہے، جوش ابھرتا ہے تو وہ چیز میں نے پک کی، انٹر نیشنل پلیئرز سے بات کی تو ان سے مجھے جو اچھی چیزیں ملیں،ان سے فائدہ ہوا۔ میں پہلے اپنی کرکٹ کو انجوائے کرتا ہوں،

پھر کسی بھی پرفارمنس سے مطمئن نہیں ہوتا، میں 100 بھی کرلوں تو بھی اپنی روز کی ٹریننگ و پریکٹس کرتا ہوں، اس کے بغیر دن نہیں گزرتا۔ گزشتہ پرفارمنس کو میں اگلی اننگ میں کیری نہیں کرتا بلکہ بہتر سے بہتر کی کوشش کرتا ہوں۔

نئے دن میں سب کچھ نیا ہوتا ہےتو پلان بی بھی ہو نا چاہئے۔ کھانے، سونے، فنکشن کے لئے بہت کچھ چھوڑنا پڑے گا۔ تینوں فارمیٹ کی کپتانی مشکل ہے لیکن چیلنج کے طور پر لیتا ہوں تو اس سے آسانی ہوجاتی ہے۔

میں اپنے ذہن کو تقسیم نہیں کر تا۔ باڈی سے ٹینشن کا نکلنا ضروری ہے اس لئے تفریحی سرگرمیاں ہونی چاہئیں، ہم ڈنر پرچلے جاتے ہیں، موویز دیکھ لیتے ہیں۔ امام ہنسی مذاق کرکے ماحول اچھا رکھتے ہیں، حسن علی میں بھی یہ کوالٹی ہے۔