وقار یونس پرتنقید ہوئی، بطوربیٹنگ کوچ مجھ پر بھی،تنقید کریں اور میری خامیاں سامنے لائیں‘یونس خان نے حیران کن بات کہہ دی

78

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان نے کہا ہے کہ ہمیں صرف بابراعظم پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کا بہتر متبادل تیار کئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ بابراعظم کے ان فٹ ہو جانے کی وجہ سے


بابر اعظم کےان فٹ ہوجانے کی وجہ سے نیوزی لینڈ کیخلاف ٹیم ناکام ہوئی، نیوزی لینڈ میں شکست کے باعث وقار یونس پر سخت،تنقید ہوئی، بطور بیٹنگ کوچ مجھ پر بھی،تنقید کی جائے اور

میری خامیاں سامنے لائیں۔ تفصیلات کے مطابق ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ پاکستان کو کراچی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانا ہو گا اور

نئے کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے، بابراعظم بڑے کھلاڑی ہیں، کپتان اور مستند بیٹسمین بابراعظم ان فٹ ہوئے تو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیم ناکام ہوئی، اگر بابر اعظم


اگر بابراعظم ٹیم میں نہ ہو تو یہ مطلب نہیں کہ ہار جائیں، بہتر متبادل تیار کئے جانے کی ضرورت ہے۔ یونس خان کا کہنا تھا کہ کراچی کی وکٹ ہمیشہ سپورٹنگ رہی ہے، کراچی کی وکٹ بیٹسمین اور باﺅلرز کو یکساں مدد کرے گی،

وکٹ پر تھوڑا بریک بھی ہوتا ہے جبکہ شام کو گیند سوئنگ بھی ہوتی ہے، پاکستان کو پہلی اننگ میں جم کر زیادہ سکور کرنا ہو گا کیونکہ بہتر سکور سے ہمارے باﺅلرز کو مدد ملے گی، ٹیسٹ میچ میں کامیابی کیلئے 6 سے 7 سیشن جیتنا ضروری ہوتے ہیں،

نئے کھلاڑیوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو موقع اور وقت دینا ہو گا لیکن اگر کارکردگی نہ دکھا سکیں تو ان کو ضائع نہ کریں اور عدم کار کردگی پر کھلاڑیوں کو ٹیم سے الگ نہ کیا جائے۔ بیٹنگ کوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ضروریات کے دائرے میں رہ کر بھرپور محنت کرنی ہو گی،

کار کردگی کا انحصار خود کھلاڑی پر ہو تا ہے، کوچ صرف رہنمائی کرتا ہے، زیادہ تجربات بیان کرنے سے کھلاڑی ڈبل مائنڈڈ ہو جاتے ہیں، کوچز کی بھی کار کردگی کا جائزہ لینا چاہیے، نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد خاص طور پر باﺅلنگ کوچ

وقار یونس پر سخت،تنقید ہوئی، بطور بیٹنگ کوچ مجھ پر بھی،تنقید کی جائے، میری خامیاں سامنے لائیں، ذاتی بنیاد پرتنقید کا نشانہ نہ بنا یا جائے، اچھی کار کردگی پر کھلاڑیوں اور کوچز کو بھی پذیرائی ملنی چاہیے۔ یونس خان نے کہا کہ

آج کے دور میں کھلاڑی پر دباؤ زیادہ ہے، کھلاڑی زیادہ ورک لوڈ کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، کھلاڑیوں کو آزادی ضرور ملنی چاہیے، اونرشپ ملنے سے کھلاڑیوں کی کار کردگی بڑھے گی، ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کو تین سے چار سیریز میں مواقع ملنے چاہئیں،

کھلاڑیوں کو اعتماد دیا جائے کہ وہ طویل مدت تک ٹیم کا حصہ بنیں گے، خوش نصیبی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کر کٹ واپس آ رہی ہے، دنیا کی ٹاپ کر کٹ ٹیموں کا پاکستان آنا نیک شگون ہے، یہ وقت ڈومیسٹک نظام پر باتیں کر نے کا نہیں، فتح اور اچھے نتائج کیلئے قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی جائے۔