خراب پر فارمنس کی ذمہ داری کوچز پر نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ۔ محمد حفیط نے حیران کن بات کہہ ڈالی

100

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
لاہور میں اسپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے پروگرام میٹ دی پریس میں سوالات کے جواب دیتے ہو ئے محمد حفیظ نے کہا کہ مصباح الحق کی کوچنگ میں میرا سال بہت اچھا گزرا ہے، مجھے کبھی کوچنگ کے دوران مسئلہ نہیں ہوا۔


یہ مینجمنٹ میرے دل کی آواز ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ خراب کھیلیں تو سارا ملبہ کوچز پر ڈال دیں ۔ حفیظ کا کہنا تھا کہ میں اگر برا کھیلا ہوں تو اپنی وجہ سے برا کھیلا ہوں اور

اگر میں نے 99 رنز بنائے ہیں تو اس میں کوچز کا بھی کردار ہے، ہمیں ایک دوسرے پر الزامات نہیں لگانے چاہئیں۔ ‏ پروفیسر کے نام سے شہرت رکھنے والے محمد حفیظ نے کہا کہ

میرے پی سی بی کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں، میں بورڈ کو بہت عزت دیتا ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ پی سی بی نے مجھے سائید لائن کرنے کی کوشش کی ہے،


اگر میں سینٹرل کنٹریکٹ میں نہیں ہوں تو یہ سوال اس کمیٹی سے ہونا چاہیے جس نے سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‏ انہوں نے مزید کہا کہ نیا پیٹرن وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا میں فرنٹ مین تھا، مصباح الحق اور اظہر علی کے ساتھ مل کر

نوجوانوں کے لیے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا، ٹھیک ہے جو فیصلہ ہے وہ وزیر اعظم عمران خان کا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کا پاکستان کرکٹ کی کامیابی میں بہت ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہر علی کو ہٹایا جانا اور مصباح الحق سے

ایک عہدہ لینا یا کوئی اور تبدیلیوں کا تعلق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات سے نہیں ہے۔ ‏ محمد حفیظ نے کہا کہ میں محمد عامر یا شرجیل خان کے خلاف نہیں ہوں، میں اس عمل کے خلاف ہوں جس سے پاکستان کا نام ڈوبا ہو، پاکستان کا نام ڈبونے والوں کو انٹر نیشنل لیول پر پاکستان کی طرف سے دوبارہ موقع نہیں ملنا چاہیے۔


‏آل راؤنڈر نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ ٹیلنٹ کی بات کی جاتی ہے، لیکن صرف ٹیلنٹ نہیں کھیلتا اسے پراڈکٹ بنانا پڑتا ہے، بھارتی کرکٹ ٹیم نے کپتان اور کئی سینیئر کھلاڑیوں کے بغیر آسٹریلیا میں سیریز دو ایک سے جیتی،

انہوں نے پراڈکٹ بنا کر نوجوانوں کو موقع دیا، ہمیں بھی ٹیلنٹ پر نہیں پراڈکٹ پر انحصار کرنا ہے۔ محمد حفیظ نے کہا کہ ساؤتھ افریقا کا دورہ پاکستان خوش آئندہے، پاکستان کا امیج بہتر ہو رہا ہے اور پی سی بی کی کوششوں سے

غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آ رہی ہیں، پاکستان ٹیم کو ساؤتھ افریقا کے خلاف بہتر کرکٹ کھیلنا ہوگی، پاکستان ٹیم گزشتہ سیریز ہاری ہے، اس لیے تینوں شعبوں میں ا چھا پرفارم کرنا ہوگا، ٹی ٹی ٹوئنٹی میں کسی ٹیم کو آسان حریف نہیں لیا جاسکتا۔

مجھے پاکستان کے لیے کھیلنے میں ہمیشہ سے فخر محسوس ہوتا ہے اور میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں اس سیریز کے لیے دستیاب نہیں.