’کوچنگ مصباح الحق کے بس کی بات نہیں ہے‘ پی سی بی کے سابق چیئرمین بھی میدان میں آ گئے

102

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پی سی بی کے سابق چیئرمین ذکاءاشرف نے کہا ہے کہ مصباح الحق بہت اچھے کھلاڑی ہیں اور انہوں نے ٹیم کی قیادت بھی بہت اچھی کی لیکن کوچنگ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق


ذکاءاشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بورڈ کا اصل کام مینجمنٹ کرنا ہے اور اگر مینجمنٹ اچھی ہوگی تو اس کے اثرات ٹیم کی کارکردگی پر بھی پڑیں گے لیکن یہاں دیکھا گیا ہے کہ

مینجمنٹ اچھی نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے فیصلے درست نہیں ہو رہے، یہ پہلے فیصلے غلط کرتے ہیں اور پھر انہیں درست کرنے کیلئے مزید غلطیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ

مصباح الحق کو جب دو عہدے دیے گئے تو میں نے شروع ہی سے اس کی مخالفت کی تھی کہ یہ کوئی درست فیصلہ نہیں تھا، مصباح کیا کوئی بھی دو عہدے نہیں چلا سکتا

اس لئے مصباح کو صرف چیف سلیکٹر ہونا چاہیے تھا، مصباح الحق بہت اچھے کھلاڑی رہے ہیں، انہوں نے ٹیم کی قیادت بھی بہت اچھی کی لیکن کوچنگ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ

اب جو اچھا کھیلتا ہے اسے کپتان بنا دیا جاتا ہے، کپتان ہونا اور اچھا کھلاڑی ہونا الگ الگ باتیں ہیں، انہوں نے کپتان بنانے کے چکر میں کئی نوجوان ضائع کردئیے ہیں، سرفراز احمد ایک اچھے وکٹ کیپر بیٹسمین تھے،

انہیں کپتانی سونپ دی گئی جس سے ان کی انفرادی کارکردگی متاثر ہو ئی تو جب ٹیم ہاری تو انہیں کپتانی سے ہٹا دیا جاتا ہے اور اب ان کا پلیئنگ الیون میں آنا مشکل ہے۔ذکاءاشرف نے کہا کہ

بابر اعظم ورلڈ کلاس اور پاکستان کے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں لیکن انہیں تینوں فارمیٹ کا کپتان بنا دیا گیا ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں کپتان بننے کے بعد ان کی کارکردگی بھی متاثر نہ ہو جائے، انہیں کپتان بناکر زیادتی کی گئی ہے،

میرا تو یہ ماننا ہے کہ جب کرکٹرز تجربہ کار ہو جائیں اور یہ پتا ہو کہ دباؤ برداشت کر لیں گے تو انہیں کپتانی سونپیں، یہ معیار نہیں ہونا چاہیے کہ جو اچھا کھیلے اسے کپتان بنا دیا جائے۔