بول بول کے تھک گیا،بس آخری بار کہہ رہا ہوں،رمیز راجہ نے پی سی بی سےآخر کیا کہدیا

301

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ اپنے تبصروں میں اکثر پی سی بی کو سپورٹ کرتے ہیں اور اس چکر میں ایسا گھن چکر چلاتے ہیں کہ حالیہ کھیلنے والی ٹیم سے بہتری کی امیدیں لگائے رکھتے ہیں لیکن نیوزی لینڈ میں ٹیم کی عبرتناک شکست کے بعد


رمیز بھی گھوم گئے ہیں اور انہوں نے کرکٹ ٹیم اور بورڈ کو تھوڑا رگڑا لگایا ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی ایک لفظ ٹیم منیجمنٹ کے خلاف بولا ہو. وہاں تو مصباح ،وقار، یونس اور مشتاق موجود ہیں.

اپنے یوٹیوب چینل پر رمیز راجہ کہتے ہیں کہ پاکستان نےشرمناک کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ غیر ملکی دوروں میں شکست کا سفر نامہ میلوں لمبا ہوگیا ہے،

جنوبی افریقا سے شروع ہونے والی دھنائی رک ہی نہیں پارہی، غیر ملکی دوروں میں ٹیمیں جیتنے جاتی ہیں، اپنا آپ منوانا چاہتی ہیں لیکن اب حالت خراب ہے، پاکستان کرکٹ کے سرکل میں مایوسی ہے۔

رمیز کہتے ہیں کہ لوگ اب جیت کی بات نہیں کرتے بلکہ یہ بات ہوتی ہے کہ اب 3 دن میں ہاریں گے یا 4دمن میں۔ اننگ کی شکست ہوگی اور یاپھر 10 وکٹوں کی مات۔

اب جیتنے کی بات نہیں ہوتی ہے، اسکلز لیول ڈرے ہوئے ہیں، سہمے ہوئے ہوئے ہیں، کہیں نہ کہیں خرابی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک پیپر جاری کرے کہ کیامسائل ہیں۔

ایک طرف کرکٹرز 14 روزہ قرنطینہ کاٹتے ہیں، کووڈ میں کھیلنے، قربانی دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں، پھر کووڈ رولز کی خلاف ورزی کر کے غلط ہیڈ لائنز کا نشانہ بنتے ہیں لیکن کمال ہے،

پھر باہر نکلتے ہیں اور ان کوغصہ تک بھی نہیں آتا کہ میدان میں جا کرغصہ ہی نکال لیں۔ ہارنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کی عزت و وقار ہے، ہم نے سیریز جیت رکھی ہیں،

سوال ہوگا کہ تھنک ٹینک ان کو 3 سال میں کیوں تیار نہیں کرسکے،یہ نہیں بول سکتے کہ ہم تو ابھی نئے نئے ہیں۔ رمیز راجہ کہتے ہیں کہ کووڈ کے بعد اب پریکٹس کا ماحول کم ہے،

صرف انٹر اسکواڈ میچز ہوتے ہیں، اب وہ کھلی کرکٹ نہیں ہوتی، چنانچہ فوری پیشی ہوتی ہے اور پاکستان کرکٹ کی پیشی مارکھانے کے لئے ہورہی ہے تو کیوں نہیں ہم ان ممالک کی کنڈیشنز یہاں سیٹ نہیں کرسکتے۔

میں بول بول کر تھک گیا ہوں، اب آخری بار کہہ رہا ہوں کہ یہاں پر سائنس اور ڈراپ اینڈ پچز کا انتظام نہیں کریں گے، مار کھاتے رہیں گے۔ پاکستان کرکٹ اب غیرممالک میں جیتنے نہیں

مارکھانے جاتی ہے۔ 3سنچریاں بنوا کر ہم سے ٹوٹل 300نہیں بنتے، کبھی نوبالز،کبھی کیچ ڈراپ۔ یہ سیکھتے نہیں ہیں، ہردورے میں ہر میچ کے ساتھ یہ گرتے جاتے ہیں، تھنک ٹینک ان کو کیوں نہیں بتا پارہی ہے۔

رمیز راجہ کہتے ہیں کہ اچھی اننگ کھیل لو یا 5آئوٹ کرلو مگر ہارے ہوئے ہو تو کوئی یاد نہیں رکھے گا بلکہ وننگ پرفارمنس دینی ہوگی، اپنی غلطیوں سے سیکھے،

پاکستان کرکٹ بورڈ فوری طور پر 2 سنٹرز میں غیر ملکی پچز والی سائنس استعمال کرے اور اپنے چہیتوں کو اس پر ٹرینڈ کرے ورنہ مستقبل میں مار کھاتے رہیں گے۔نتائج نہیں بدلیں گے۔

یہ سابق کپتان رمیز راجہ ہیں، جو کسی نہ کسی شکل میں پی سی بی کی پالیسی پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں، کبھی کرکٹ کمیٹی اور کبھی سفارشات والی کمیٹی کے تھرو یہ اپنی رائے منواتے رہے ہیں،

آج بھی انہوں نے پاکستانی منیجمنٹ کے اوپر کوئی سخت بات نہیں کی ہے اور پی سی بی حکام کو بھی کوئی سخت میسج نہیں دیا ہے، بس لے دے کر کرکٹرز پر برسے ہیں،

رمیز راجہ ہی ہیں جو ہمیشہ ینگ لوگوں کو چانسز دینے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں کہا کہ 16 سال یا 18 سال کا ایک کرکٹر پی ایس ایل کی 2 پرفارمنسز سے ٹیم میں نہیں لینا چاہئے بلکہ اسے ہائی پرفارمنس سنٹر بھیج کر پالش کرنا چاہئے۔