پی ایس ایل کےچھٹے ایڈیشن میں ٹاپ غیرملکی کھلاڑیوں کی پورے ٹورنامنٹ میں شرکت مشکوک مگر کیوں؟ایسی خبر آ گئی کہ ہر پاکستانی افسردہ ہوجائے

138

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے ایڈیشن کا پلیئرز ڈرافٹ 10 جنوری کو منعقد ہوگا جس کیلئے انتظامیہ نے فرنچائزز کو 400 سے زائد کھلاڑیوں کی فہرست بھیجی ہے تاہم بیشتر کھلاڑیوں کی اپنی اپنی نیشنل ٹیموں کے ساتھ


نیشنل ٹیموں کےساتھ ڈیوٹیز کی وجہ سے مکمل دستیابی نہ ہونا ٹیموں کو کمبی نیشن بنانے کیلئے زیادہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن 20 فروری سے 22 مارچ کے

درمیان کھیلا جانا ہے اور اس دوران تقریبا ہر ٹیم انٹرنیشنل سیریز میں مصروف ہو گی جس کی وجہ سے متعدد ٹاپ پلیئرز پوری پی ایس ایل کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے۔

پی ایس ایل کی تاریخوں سے جو سیریز متصادم ہیں ان میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کی ٹیسٹ سیریز، انگلینڈ کا دورہ انڈیا، بنگلہ دیش کا دورہ نیوزی لینڈ، سری لنکا کا دورہ ویسٹ انڈیز اور افغانستان کی زمبابوے سے سیریز شامل ہیں۔


ذرائع کے مطابق پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ پلاٹینم کیٹیگری کے پلیئرز میں سے اکثر لیگ کے تمام میچز کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے یا ان کی دستیابی ٹیم کی سیریز اور ٹیموں میں ان کی شمولیت سے مشروط ہو گی۔

ایسی صورتحال میں امکان ہے کہ ٹیمیں دستیاب وسائل اور ری ٹینشن پر زیادہ انحصار کریں گی اور ہر ٹیم مجموعی طور پر 8 کھلاڑیوں کو برقرر رکھ سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ڈیل سٹین، ریلی روسو، عمران طاہر، ایلکس ہیلز، ڈیوڈ ملر،

مورنی مورکل، کرس گیل، کولن انگرم، کرس لین، کارلوس بریتھ ویٹ، سندیپ لامی چانے وہ پلاٹینم پلیئرز ہیں جوپی ایس ایل کے دوران ٹیموں کو مکمل طور پر دستیاب ہوں گے جبکہ افغانستان کے راشد خان، محمد نبی، اور مجیب الرحمان کی دستیابی

زمبابوے اور افغانستان کے درمیان سیریز سے مشروط ہے جو فروری میں کھیلی جانی ہے۔ انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان اور معین علی بھارت سے شیڈول سیریز کی وجہ سے جزوی طور پر ہی دستیاب ہوں گے جبکہ

سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کی وجہ سے اڈانا اور تھسارا پریرا کی مکمل دستیابی پر سوالیہ نشان ہے، براوو بھی اس ہی سیریز میں مصروف ہو سکتے ہیں۔

فروری میں ہی جنوبی افریقہ کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنا ہے اور اس سیریز میں جنوبی افریقہ کے ریسی وینڈر ڈوسن کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے اور یہ امر ان کی مکمل دستیابی پر بھی

ایک سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جزوری طور پر دستیاب مضبوط کھلاڑیوں کو ٹیمیں سپلیمنٹری یا ری پلیسمنٹ کے طور پر بھی سکواڈ میں شامل کر سکتی ہیں۔