پاکستان کرکٹ کے دروازے پر نئی دستک،کیا دروازے کھل جایںگے

242

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیا جیتی ہے، ایسا ہوگیا جیسے سب ٹائٹل اس فتح کے منتظر تھے، آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں اول پوزیشن، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں ٹاپ تھری میں انٹری اور


پاکستان کے خلاف 10 سال سے ناقابل شکست رہنے کا اعزاز بھی برقرار رکھا ہے۔ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کر کٹرز کے لئے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ اگلے کووڈ ٹیسٹ میں تمام کھلاڑی کلیئر ہوگئے ہیں،

آل رائونڈر معین علی کے کو رونا میں مبتلا ہونے کے بعد پورے کیمپ میں سنسنی کی لہر تھی ،اس لئے ہنگامی بنیادوں پر سب کرکٹرز کے پی سی اور کووڈ ٹیسٹ ہوئے،ان کی رپورٹ تسلی بخش ہے۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بائولر اور معروف کھلاڑی کرٹلی ایمبروز نے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے بائولنگ کوچ کے لئے درخواست کردی ہے۔ وہ اس سے قبل ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔

کرٹلی ایمبروز اپنے وقت کے نہایت خطرناک بائولر مانے جاتے تھے،امکان ہےکہ وہی انگلش ٹیم کے اگلے بائولنگ کوچ ہونگے۔ ملکی فرسٹ کلاس کرکٹ سیزن قائد اعظم ٹرافی کے اس سیزن سے

متعدد کرکٹرز نے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے پر دستک دی ہے.اس سال کئی تاریخی ریکارڈز بنے ہیں. ‏دفاعی چیمپئین سنٹرل پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا 63 ویں قائد اعظم ٹرافی کا فائنل سنسنی خیز مقابلے کے بعد ٹائی رہا ۔

کراچی کے وینیوز پر کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کے 31 میچوں کے دروان کئی ایک ریکارڈ بنے ۔ ‏فرسٹ کلاس میچز کی 248 سالہ تاریخ میں 60296 میچز میں سے صرف 67 میچز کا اختتام ٹائی پر ہوا ۔ اس طرح اس کی شرح صرف 0.11 فیصد بنتی ہے۔

‏ دنیا میں پہلی مرتبہ فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کا فائنل ٹائی ہوا ہے ۔ جبکہ پاکستان میں یہ ٹائی ہونے والا 5 واں میچ ہے ۔ 1961 میں لاہور بلیوز اور بہاولپور ، 1983 میں ایم سی بی اور پاکستان ریلویز ، 1988 میں پشاور اور بہاولپور جبکہ 2011 میں ایچ بی ایل اور واپڈا کے درمیان میچ ٹائی ہوا.

‏سنٹرل پنجاب کو میچ جیتنے کے لیے 356 رنز کا ہدف ملا ۔ یہ ٹارگٹ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں فرسٹ کلاس کرکٹ کے 66 سالوں میں کوئی ٹیم حاصل نہیں کر سکی ۔ سنٹرل پنجاب کی آخری وکٹ 355 رنز پر گری۔

یہ ٹائی میچز میں ہدف کے تعاقب میں سب سےزیادہ بننے والے رنز ہیں اس سے قبل 347 رنز بنے جو انڈیا نے 1986 میں چنائی میں کھیلے جانے والے میچ میں بنائے۔

‏اس لسٹ میں ایم سی جی میں 1948 میں بریڈ مین الیون اور اے ایل ہیسٹ الیون کے درمیان بننے والے 402 رنز شامل نہیں ہیں ۔ ریکارڈ بکس میں اس میچ کو ٹائی قرار دیا گیا ہے لیکن بریڈ مین الیون آل آوٹ نہیں ہو ئی تھی۔

‏ خیبر پختونخواہ کے بیٹسمین کامران غلام نے قائد اعظم کے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا ۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں 1249 رنز بنائے۔

انہوں نے یہ رنز 62.45 کی اوسط سے پانچ سنچریوں کی مدد سے بنائے ان میں ایک سنچری فائنل میں شامل ہے ۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ ایچ بی ایف سی کے سعادت علی کے پاس تھا

انہوں نے84-1983کے سیزن میں 1217 رنز اسکور کیے تھے ۔ کامران غلام 10-2009 میں اسد شفیق کے 1104 رنز کے بعد 1100 سےزائد رنز بنانے والے واحد بیٹسمین ہیں۔

‏خیبر پختونخواہ کے ساجد خان 25.08 کی اوسط سے 67 وکٹیں لے کر زیادہ وکٹیں لینے والے بولروں کی فہرست میں ٹاپ پر رہے ۔ ٹائی ہو نے والے میچ میں انہوں نے ٹورنامنٹ کی آخری وکٹ بھی حاصل کی۔

آٹھ سیزن میں پہلی مرتبہ کسی آف اسپنر نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے اس سے قبل 13-2012کے سیزن میں عاطف مقبول نے 55 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ‏ساجد خان کی 67 وکٹیں قائد اعظم ٹرافی میں

کسی آف اسپنر کی 96-1995کے بعد حاصل کی جانے والی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں تب بہاولپور کے مرتضی حسین نے 15.08 کی اوسط سے 72 وکٹیں حاصل کیں ۔

‏اس سیزن میں پانچ بالروں نے 25 سے زائد وکٹیں حاصل کیں یہ اس لحاظ سے ایک بہت بڑی تبدیلی ہے کہ پچھلے سیزن میں ایک بھی بولر نے 25 سے زائد وکٹیں نہیں لی تھیں۔

سنٹرل پنجاب کے کپتان حسن علی جنہوں نے پلئیر آف دی ٹورنامنٹ اور مین آف دی فائنل کا اعزاز حاصل کیا،فاسٹ بولروں میں سب سے زیادہ 43 وکٹیں لیں انہوں نے یہ وکٹیں 20.06 کی اوسط سے لیں جبکہ

ان کے بعد دوسرے نمبر پر ان کے ساتھی بولر وقاص مقصود رہے جنہوں نے 41 وکٹیں لیں ۔ ‏سیزن 21-2020 میں 25 سے زائد وکٹیں لینے والے دیگر تین بالروں میں سندھ کے تابش خان،

بلوچستان کے تاج ولی اور سندھ کے شاہنواز دھانی شامل ہیں جنہوں نے بلترتیب 30 ، 27 ، اور 26 وکٹیں لیں۔ ‏گزشتہ دو ایڈیشنز کے مقابلے میں قائد اعظم ٹرافی 21-2020 میں ایک وکٹ کے رنز کی اوسط زیادہ رہی۔

اس دفعہ یہ اوسط 35.04 رہی ۔ جو یہ چیز واضح کرتی ہے کہ پچز اور بال کی کوالٹی میں بہتری آئی ہے ۔ دو سیزن کے 62 میچز میں 1784 وکٹوں کے نقصان پر 62512 رنز بنے

۔ 2019 کے بعد دنیا میں کسی بھی فرسٹ کلاس ایونٹ میں اس سے زیادہ اوسط نہیں رہی۔ ‏18-2017 اور 19-2018 میں ایک وکٹ پر رنز بنانے کی اوسط 23.96 رہی۔