انضمام الحق قومی ٹیم میں منتخب ہوئے توعمران خان نےنیٹ پریکٹس کے دوران وسیم اور وقار یونس سے انہیں باﺅلنگ کروانےکوکہا اور پھر، ثقلین مشتاق نےدلچسپ انکشاف کردیا

135

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کےمایہ نازسابق آف سپنر ثقلین مشتاق نے انضمام الحق کو پاکستان کا ’ویوین رچرڈز‘ قراردیتے ہوئےعمران خان کی کپتانی میں پیش آنے والا انتہائی دلچسپ واقعہ سنا یا ہے۔ تفصیلات کےمطابق ثقلین مشتاق نے کہا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے


جب وہ پاکستانی ٹیم میں آئے، انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں تھرتھلی مچا دی۔ وہ ہیلمٹ نہیں پہنتے تھے اور اس کے باوجود فرنٹ فٹ پر جا کر باﺅلرز کو ہک اور پل شاٹس مارتے تھے۔

اور جب انہیں پاکستانی سکواڈ کیلئے منتخب کیا گیا تو عمران خان ٹیم کے کپتان تھے۔ انہوں نے وسیم اکرم اور وقاریونس کو گیند دیتے ہوئےکہا کہ ٹیم میں آنے والے نئے لڑکے کو چیک کریں

ثقلین مشتاق نے بتایا کہ ”عمران خان نے دونوں باﺅلرزکواپنی پوری رفتار کیساتھ باﺅنسرز مارنے کو کہا۔ انضمام الحق نے پیڈ پہنے لیکن ان کےسرپرہیلمٹ نہیں تھا


لیکن اس کے باوجود نیٹ میں انہوں نے جس طرح کی بیٹنگ کی عمران خان بہت زیادہ متاثر ہو گئےاورانہیں ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم کیخلاف ڈیبیو کرانےکا فیصلہ کر لیا جہاں انہوں نے سرپر ٹوپی پہن کر ہی باﺅلرز کو پل اور ہک شاٹس مارتے رہے۔“

سابق آف سپنر نے کہا کہ ”انضمام الحق ہمیشہ آگے بڑھنے کو تیار اور اگلے پاﺅں پر رہتے، وہ ڈرائیور کرتے، کٹ شاٹ مارتے اورویسٹ انڈیز باﺅلرز کو دھوتے جس پر سب نے انہیں پاکستان کا ’ویوین رچرڈز‘ کہنا شروع کر دیا کیونکہ

وہ بھی اپنا فرنٹ فٹ آگے لےجا کر باﺅلرزکو مڈ وکٹ پرزوردارشاٹس مارتے تھےانہوں نےبتایا کہ ”میں انضمام الحق کیساتھ بہت زیادہ کرکٹ کھیلا ہوں، اور انہیں نیٹ میں بہت زیادہ باﺅلنگ کروائی ہے، لیکن انہیں کبھی بولڈ نہیں کرسکا۔

وہ اپنی ٹانگیں بہت تیزی سے چلاتے تھےاوراس وجہ سے وہ گیند کے قریب آ کر ہماری بہت پٹائی کرتے۔ وہ ایک گیم چینجراورپاور ہٹرتھے جن سے ساری مخالف ٹیمیں ڈرتی تھیں