ٹیم بچالو یا پلیئرز، اس سے تو اچھا یہ ہوتا کہ. انضمام الحق نے حیران کن بات کہہ دی

541

کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
سابق کپتان وسابق چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا ہے. پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم منیجمنٹ دیکھ لے کہ اسے ٹیم بچانی یا پلیئرز. جس طرح قومی کھلاڑی کھیل رہے ہیں اس طرح سے جیتا نہیں جا سکتا.


سابق کپتان کہتے ہیں کہ کین ولیمسن اور نکولز نے اچھی بیٹنگ کی لیکن دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کے بائولرز کیا کرتے رہے. اگر ایک مقام پر بال کرنے سے وکٹ نہیں مل رہی تو پلان تبدیل کرو.

حالت یہ ہے کہ نئی بال کے بعد بھی گیندیں آف اسٹمپ سے باہر پھینک رہے تھے. کیوی بلے بازوں نے تو نئی گیند کو چھوڑنا تھا یا چھیڑنا؟ محمد عباس نے 20 اوورز میں 37 رنز دیئے.

ویر ی گڈ .ڈاٹ بالز ست اہم وکٹیں لینا بھی ہوتا ہے اور عباس کا تو کوئی مسئلہ ہی چل رپا ہے لگتا ہے کہ اس کی اپروچ تبدیل ہوگئی. پہلے 10 ٹیسٹ میچز میں 59 وکٹوں کے بعد موصوف 13 میچ میں 23 وکٹ لے سکے.


یہ بڑا سیڈ بیک ہے. انہیں اپنے پلان، پرفارمنس اور سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے .یہی حال باقی بائولرز کا ہے. شروع میں جب آتے ہیں، بہتر ہوتے ہیں. جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے. لیول خراب سے خراب تر.مطلب الٹا حساب ہے.

نکولز کی مثال دیکھ لیں کہ شروع میں ٹیسٹ میں ناکام تھا. بعد میں کامیاب ہوگیا. مطلب ہے کہ امپرومنٹ. بیٹنگ میں بھی یہی حال ہے. ایک اننگ میں سنچری اور پھر 7 اننگز میں ناکامی. ولیمسن نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈبل سنچری بنائی.

پاکستان کے خلاف 2سنچریاں کردیں. فارم ہے تو فائدہ اٹھایا. رضوان نے مسلسل ففٹیز کیں مگر باقی ایک اننگ چلنے کے بعد نیچے ہوتے ہیں. سابق پاکستانی کپتان انضمام 297 کے جواب میں

کیویز کے 3 وکٹ پر 288 بننے پر نہایت ناخوش دکھائی دیئے اور کہا کہ پی سی بی اور ٹیم منیجمنٹ اب فیصلہ کرلے کہ ایسے پلیئرز بچانے ہیں ٰیا ٹیم بچانی ہے کیونکہ اس حالت میں ہم نہیں چل سکتے.بیٹسمینوں کو ذمہ داری نبھانی ہوگی.