قائداعظم ٹرافی میں شاندار کارکردگی دکھانے والے حسن علی قومی ٹیم میں کم بیک کیلئے بے تاب

117

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باﺅلر حسن علی قومی ٹیم میں واپسی کیلئے بے تاب ہیں جن کا کہنا ہے کہ قائداعظم ٹرافی میں فارم اور فٹنس ثابت کرنے کا موقع مل گیا اور اپنی اسی محنت کو جاری رکھتے ہوئے


تفصیلات کے مطابق نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حسن علی نے کہا کہ انجریز کا طویل سلسلہ ہونے کے بعد قومی ٹیم میں واپسی کیلئے فٹنس اور فارم ثابت کرنے کی سخت ضرورت تھی،

قائد اعظم ٹرافی میں سینٹرل پنجاب کی قیادت کرتے ہوئے یہ موقع حاصل ہو گیا جبکہ بطور کپتان ذمہ داری اٹھانے کا بھی فائدہ ہوا، دیگر کھلاڑیوں کو اعتماد دیا اور

اس طرح فائنل تک رسائی حاصل کر لی۔ان کا کہنا تھا کہ میں قومی ٹیم کا مستقل ممبر رہا ہوں، ساتھی کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھ کر دل چاہتا تھا کہ میں بھی واپس آﺅں،


حسن علی قومی ٹیم میں کم بیک کرنے اور ٹیم میں شامل ساتھی کھلاڑیوں کیساتھ ایک مرتبہ پھر حسین وقت گزارنے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہم سب اکٹھے مل بیٹھ کر کھاتے پیتے تھے لیکن حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوستوں کا گروپ ہے اور سب کے ساتھ واٹس ایپ پر بات چیت ہوتی ہے۔

وہ میری کمی بھی محسوس کر تے ہیں اور میں انہیں بہت زیادہ مس کرتا ہوں اور پرامید ہوں کہ ایک بار پھر ہم اکٹھے ہوں گے، ہوسکتا ہے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ہی ہوجائیں۔ بہرحال،انجریز کھیل کا حصہ ہیں اور میرے ہاتھ میں محنت ہے جس کو جاری رکھتے ہوئے کم بیک کی کوشش کروں گا،

جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز کیلئے منتخب کرنا سلیکٹرز کا کام ہے، موقع ملا تو اپنا انتخاب درست ثابت کرنے کیلئے پرعزم ہوں۔ شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کی موجودگی میں بھی ٹیم میں جگہ ملنے کے سوال پر حسن علی نے کہا کہ

سلیکشن کیلئے کھلاڑیوں میں مسابقت ہونا اچھی بات ہے، بہرحال جو پاکستان کیلئے پرفارم کرے وہی کھیلے گا۔ خود کو صرف وائٹ بال کرکٹ تک محدود کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں ابھی 26 سال کا ہوں، انرجی موجود ہے، سلیکٹرز جس فارمیٹ کیلئے بھی موزوں سمجھیں پرفارم کرنے کی کوشش کروں گا۔