نیوزی لینڈ میں قرنطینہ،قید‘ تھی“ محمد حفیظ بھی بالآخر بول اٹھے، حیران کن بات کہہ ڈالی

111

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
نیوزی لینڈ کیخلاف ٹی 20 سیریز کھیل کر وطن واپس لوٹنے والے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینئر آل راﺅنڈر محمد حفیظ نے نیوزی لینڈ میں قرنطینہ کوقید سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کو رونا کے حوالے سے


تفصیلات کے مطابق ایک نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد حفیظ نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں قرنطینہ کا وقت ہمارے لئے بہت مشکل ثابت ہوا، اگر میں اسےقید کہوں تو غلط نہیں ہو گا،

ایک چھوٹے سے کمرے میں 14 روز تک بند رہنے کی وجہ سے ہم ذہنی اور جسمانی طور پر بہت نیچے چلے گئے تھے، باب وولمر کےانتقال پر بھی اسی طرح کمروں میں ڈرےسہمے رہنا پڑا تھا،

نیوزی لینڈ میں اس نوعیت کا دوسرا تجربہ ہوا۔ چند کھلاڑیوں کی طرف سے قرنطینہ کے دوران بڑا اچھا ماحول میسر ہونے کا تاثر دئیے جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کسی کا تجربہ خوشگوار ہو۔

کو رونا فری نیوزی لینڈ نے اپنے طور پر درست اقدامات کئے مگر میرے لئےقید کا یہ وقت مشکل تھا، روانگی سے پہلے پاکستان میں بھی ہم بند ہو گئے تھے، مجموعی طور پر 20 کے قریب روز کی،قید تنہائی آسان نہیں،

اس سلوک کی وجہ سے ذہنی،دباﺅ رہا تاہم مثبت بات یہ تھی کہ یہ سب کچھ ہم اپنے ملک کیلئے کر رہے تھے۔ کو رونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر نیوزی لینڈ کی جانب سے سیریز منسوخ کرنے کی،دھمکی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان کے ویڈیو پیغام میں پہنچائے جانے کے سوال پر

محمد حفیظ نے کہا کہ یہ کسی کلب نہیں پاکستان کی ٹیم تھی، ہم ملک کے سفیر کے طور پر وہاں گئے تھے، سفیروں کے ساتھ جیسا رویہ ہونا چاہیے ویسا نہیں کیا گیا، بہرحال مشکل وقت تھا گزر گیا۔

سینئر آل راﺅنڈر کا کہنا تھا کہ ایک کھلاڑی کے طور پر نیوزی لینڈ میں قرنطینہ کا مشکل وقت برداشت کیا، 5 دن میں ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہونا مشکل تھا، اس کے باوجود کارکردگی پر سخت تنقید کی گئی،

یہ ہمارا عمومی رویہ ہے، سخت ترین الفاظ استعمال کئے گئے حالانکہ کھلاڑیوں کی تعریف کرنا چاہیے کہ اتنے مختصر وقت میں انہوں نے خود کو انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے تیار کیا۔