پی ایس ایل 6 کیلئےمقامی کھلاڑیوں کی،کیٹیگریز کا اعلان ہو گیا، کس کی ترقی ہوئی اور کس کی تنزلی، حارث رﺅف کس،کیٹیگری میں چلے گئے؟جانیے

222

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پی سی بی نے پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کیلئے مقامی کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ 2021ء پاکستان کے بہترین ٹیلنٹ کیلئے ایک بار پھر شوکیس ثابت ہو گی۔


گزشتہ سیزن میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کو حتمی شکل دیدی گئی ہے جس کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم، جو 12 میچز میں 473 رنز بنا کر

حال ہی میں ختم ہونے والی ایچ بی پی ایس ایل 2020ءکے بہترین کھلاڑی قرار پائے، وہ کراچی کنگز میں اپنے ساتھیوں عماد وسیم اور محمد عامر کے ساتھ پلاٹینم کیٹیگری میں ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان پلاٹینم کیٹیگری میں ہی شامل ہیں جبکہ ان کے ساتھی فہیم اشرف ڈائمنڈ کیٹیگری میں چلے گئے ہیں۔ پشاور زلمی کے تین کھلاڑی وہاب ریاض، کامران اکمل اور شعیب ملک کو


پلاٹینم کیٹیگری میں رکھا گیا ہے جبکہ فاسٹ باﺅلر حسن علی ڈائمنڈ کیٹیگری میں چلے گئے ہیں۔ ملتان سلطانز کے کپتان شان مسعود پی ایس ایل 2020 اور نیشنل ٹی 20 کپ میں متاثر کن پرفارمنس کے بعد

ڈائمنڈ کیٹیگری میں آ گئے ہیں جبکہ شان مسعود کے ساتھی شاہد آفریدی اور سہیل تنویر پلاٹینم کیٹیگری میں ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد پلاٹینم کیٹیگری میں ہیں

جبکہ فاسٹ باﺅلر محمد حسنین گولڈ سے ڈائمنڈ میں آ گئے ہیں، وہ پی ایس ایل 2020 میں 15 وکٹوں کے ساتھ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے باﺅلر رہے۔

فخر زمان پلاٹینم کیٹیگری میں موجود ہیں، وہ لاہور قلندرز کی جانب سے پی ایس ایل 2020 میں 12 میچوں میں 325 رنز بنا کردوسرے زیادہ سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بنے تھے

جبکہ ان کے ساتھی محمد حفیظ اور پی ایس ایل 2020 کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باﺅلر شاہین شاہ آفریدی بھی اسی کیٹیگری میں شامل ہیں،


لاہور قلندرز کے فاسٹ باﺅلر حارث روف کی کامیابیوں کا سفر جاری ہے اور وہ گولڈ کیٹیگری سے ڈائمنڈ کیٹیگری میں شا مل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے سال 2020ء میں 19.57 کی اوسط کے ساتھ سب سے زیادہ 57 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ کیٹیگری ری نیول کے عمل اور پک آرڈر کو حتمی شکل دیئے جانے کے بعد

اب ٹرانسفر اوربر قرار رکھنے کی راہ اضابطہ طور پر کھل گئی ہے۔ کیٹیگری ری نیول کے پراسس کے طور پر تمام فرنچائزز کے نمائندگان کا ووٹ ہر کھلاڑی کیلئے ضروری تھا،

ٹیموں کو اپنے کھلاڑیوں کے حق میں ووٹ دینے کی اجازت نہیں تھی مگر ووٹنگ سٹیج کے اختتام پر کھلاڑیوں سے متعلق نظر ثانی کی درخواست جمع کرا نے کی اجازت تھی۔

مقامی کھلاڑیوں کی کٹیگریز کو حتمی شکل دینے کیلئے نیشنل ٹیم کی پرفارمنسز ، ڈومیسٹک کرکٹ کی کار کردگی ، اور ٹی 20 میں برانڈ ویلیو کو اہمیت دی گئی۔