رمیز راجہ کو پاکستانی بیٹنگ میں عقل نظرآئی، لیکن محمد حفیظ نظرنہ آئے، نام لینا بھی گوارا نہیں کیا،جانیےکیوں

269

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کی نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی20 میچ میں کامیابی پر رمیز راجہ خوش ہیں لیکن انہوں نے محمد حفیظ کا تذکرہ تک کرنا مناسب نہیں جانا، اپنے یوٹیوب چینل پر میچ تبصرے میں رمیز راجہ


رمیز راجہ محمد رضوان اور فہیم اشرف کی تعریف کرتے پائے گئے،ساتھ میں انہوں نے فیلڈنگ سمیت مختلف خرابیوں کی نشاندہی کی لیکن پورے پروگرام میں انہوں نے حفیظ کا نام لینا بھی گوارا نہیں کیا۔

رمیز راجہ پہلے دن سے اس بات کے حمایتی رہے ہیں کہ ٹیم میں بوڑھے پلیئرز بوجھ ہیں، ان سے چھٹکارے کا یہی وقت ہے، بار بار کی تکرار سے محمد حفیظ نے آخری بارسخت جملے کہے تھے اور

کہا تھا کہ میرا 12 سالہ بیٹا رمیز سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔ حفیظ نے اس سیریز کی 2 اننگز میں اچھی بیٹنگ کی، سال بھر میں پوری دنیا کی ٹی 20 پلیئرز میں سب سے زیادہ رنزبنائے،2020کے ٹاپ اسکورر رہے لیکن

رمیز راجہ کی زبان پر ان کا نام نہیں آیا اگررضوان نے ایک سائیڈ سے اچھی بائولنگ کی ہے تو دوسرے اینڈ سے حفیظ کا بھر پور ساتھ رہا، تب ہی اعتماد سے پاکستانی اننگ کی سنچری بھی مکمل ہوگئی تھی۔

راجہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہدف کے تعاقب میں عقل،ردھم اور ربط دکھائی دیا، اس کے لئے ہمیں رضوان کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ جنہوں نے رک کر بیٹنگ کی،

ہدف کے تعاقب میں اچھا رن چیز تھا کیونکہ بھروسہ یہ بائولنگ پر کرتے ہیں، بیٹنگ پر نہیں، رضوان کی بیٹنگ میں بےخوفی تھی، پچ بھی بر صغیر ٹائپ کی تھی، حیدر علی کو ان سے سیکھنا ہوگا،

وہ جلدی کرجاتے ہیں، انہیں رک کر کھیلنا ہوگا، ہر اننگ کے بعد آ پ کو بہتر کرنا ہوگا، تجربہ کام آتا ہے، حیدر علی نے اپنے آپ کو وقت نہیں دیا۔ میچ ختم کر کے آنے سے خود کو اعتماد ملتا ہے۔

رمیز راجہ کہتے ہیں کہ بائولنگ اچھی نہیں تھی، فہیم اشرف نے بائولر کے طور پر اچھا کم بیک کیاہے، پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ خراب تر ہے، جیتنے سے اعتماد بڑھے گا لیکن ٹیسٹ سیریز میں چہرے بدل جائیں گے اور اعتماد وہاں کام آئے گا۔