منہ کدھر،شاٹ کدھر،غیر سنجیدہ منیجمنٹ، غیرسنجیدہ پی سی بی، سرفراز کوغلط ہٹایا گیا،شعیب اختر پھٹ پڑے

60

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بائولر شعیب اختر کہتے ہیں کہ برصغیر کی ٹیمیں مجھے سونے کیوں نہیں دیتیں، نیوزی لینڈ اور پاکستان کے ٹی 20 میچ کاٹاس ہونے کے بعد میں ذرا سوگیا تھا،اٹھ کر دیکھا تو لکھا تھا کہ پاکستان،333۔


پاکستان نے 333کیا ہوا تھا، میں نے پھر غور سے دیکھا تو پاکستان کے 33پر 3 آئوٹ تھے، میں آنکھیں ملتا رہ گیا کہ یہ ہوکیا رہا ہے، یہ ایشیائی ٹیمیں کیا کر رہی ہیں۔یہ مجھے آرام سے سونے بھی نہیں دیتے۔

پاکستا ن کرکٹ ٹیم جو میچورٹی دکھا رہی ہے، وہ کلب لیول کے بچے بھی نہیں دکھاتے۔ کلب لیول کا بچہ اس سے زیادہ کرکٹ سمجھتا ہے، پاکستان کس طرح کی کرکٹ کھیل رہا ہے،

مجھے یہ سمجھ بھی نہیں آرہی کہ پاکستان کس لائن پر جارہا ہے۔ غیر سنجیدہ بیٹنگ،غیر سنجیدہ منیجمنٹ اور غیرسنجیدہ پاکستان کرکٹ بورڈ۔ میں صاف لفظوں میں بول رہا ہوں کہ


ان کو کسی چیز کا پتہ نہیں چل رہا، سرفراز جب کپتانی کے لئے تیار ہوگیا تو حکم ہوا کہ اسے کپتانی سے اتار دو، جب حفیظ تیار ہوگیا تو اسے باہر نکالنے کے چکروں میں لگے ہوئے تھے۔ آوازیں آئیں کہ حفیظ کو باہر نکالو،بوڑھا ہوگیا ہے،ہمارے پلان کا حصہ نہیں ہے۔

شعیب ملک تیار ہوگیا،اس سے کام لینے کا وقت آیا تو باہر نکال دیا۔ شعیب اختر نے انتہائی غصہ اور درد میں کہا کہ یہ منیجمنٹ ہے؟ نیوزی لینڈ کا کپتان کین ولیمسن 5سال سے کپتانی کر رہا ہے، انہوں نے کرکٹ شائقین کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ

کبھی کیوی بورڈ حکام، کبھی چیئر مین اورکبھی کیوی چیف سلیکٹرکانام سنا ہے؟ کسی کا نام نہیں سنا ہوگا لیکن پاکستان میں ہر ڈیڑھ دن بعد چیف سلیکٹر آجاتا ہے۔ ہر 2دن بعد چیئر مین آجا تا ہے، ہر 3دن بعد کوئی پیراشوٹر اوپر سے آجاتا ہے، اتنے غیر سنجیدہ ۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ میں اتنی غیر سنجیدگی اور غیر پروفیشنل ازم دیکھی ہے کہ حد ہوگئی۔ منہ کدھر ہے اور شاٹ کدھر ہے، نہ جگہ کا پتہ ہے، نہ گیپ کا اور نہ گرائونڈ کا۔ گرائونڈ چھوٹا ہے ،اوپر جانے کی بجائے نیچے ہی کھیل لو۔ حفیظ سے کوئی سیکھ لو۔

منہ اٹھایا ۔چھک پاٹ،سیون اپ ،راولپنڈی والا حساب ہے۔ادھر مار،ادھر مار،ڈبل ہے استاجی۔ شعیب اختر کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ کیا کھیل رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ انڈیا ،تم کہاں سےا چھا کھیل رہے ہو، ہم تم کو بتاتے ہیں کہ ایسے کھیلو۔

ایسی کرکٹ کھیلی کہ شرم آتی ہے۔ ان کو یہ نہیں علم کہ کیسے کھیلنا ہے۔ حیدر علی کا منہ کدھر ہے اور شاٹ کدھرہے، اس کو یہ نہیں علم کہ کیسے کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ یہ چیزیں سیکھنی والی ہیں۔ پاکستانی ٹیم جیسے کھیلی لگتا ہے کہ ان کو کچھ علم ہی نہیں۔ دوسرا یہ بائولرز گیند نہیں کر رہے، عماد وسیم بائولنگ نہیں کر رہا، لڈو کھیل رہا ہے۔ وہاب ریاض اتنا تجربہ کار ہوکر مار کھائے جا رہا ہے۔ اسپنرز نا کام ہیں۔ شعیب اختر کہتے ہیں کہ سسٹم بہتر کرو۔