چیف سلیکٹر اور سلیکشن کمیٹی کےمعاملے پر پی سی بی تذبذب کاشکار مگر کیوں؟جانیے

89

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ بورڈ سلیکشن کمیٹی کے معاملے پر تذبذب کاشکار ہے کہ نئی طرز پر سلیکشن کمیٹی کا انتخاب کیا جائے یا پھر پرانی طرز کی سلیکشن کمیٹی ہی فعال کی جائے، اس حوالے سے تاحال کوئی اتفاق نہیں ہو سکا جبکہ


تفصیلات کے مطابق مصباح الحق نے دورہ نیوزی لینڈ کیلئے آخری بار بطور چیف سلیکٹر سکواڈ منتخب کیا، اب ان کے پاس صرف ہیڈ کوچز کی ہی ذمہ داری ہے جبکہ پی سی بی نے

متبادل کی تلاش تو شروع کر دی مگر تاحال کسی پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے، بیشتر معروف سابق کرکٹرز کو تو پہلے ہی کوئی نہ کوئی ملازمت مل چکی، ایسے میں سابق فاسٹ باﺅلر

محمد اکرم کا نام بطور فیورٹ امیدوار سامنے آیا جو پشاور زلمی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ پی سی بی کے ساتھ بات چیت میں واضح کر دیا ہے کہ میں روایتی سلیکشن کمیٹی کا حامی ہوں

اب بورڈ اس حوالے سے تذبذب کاشکار ہے، اگر سابقہ نظام بحال کیا تو ایک اور فیصلے کی تبدیلی سے یوٹرن کاالزام لگے گا، اسی لئے محمد اکرم سے کہا گیا تھا کہ وہ فی الحال ڈومیسٹک کوچز کے سلیکٹرز ہونے کا طریقہ کار ہی قبول کر لیں،

اس کے بعد مزید کوئی بات نہ ہوئی، اگر محمد اکرم آمادہ نہ ہوئے تو ایک تجویز موجودہ سلیکٹرز میں سے ہی کسی کو چیف بنانے کی ہے اور اس حوالے سے محمد وسیم کا نام زیر غور ہے۔ دوسری جانب راشد لطیف اب پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے ساتھ

باقاعدہ طور پر منسلک نہیں رہے اور بعض حلقے انہیں بھی چیف سلیکٹرکا امیدوار قرار دے رہے ہیں البتہ ذرائع کے مطابق اس وقت پی سی بی میں ہر بڑا فیصلہ وسیم اکرم کی مشاورت سے ہوتا ہے،

ان کے سابق وکٹ کیپر سے تعلقات خوشگوار نہیں رہے ہیں اس لئے وسیم اکرم ان کے چیف سلیکٹر بننے کی قطعاً حمایت نہیں کریں گے، اس حوالے سے آئندہ چند روزمیں صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔ اب کچھ دن مین یہ فیصلہ ہو ہی جیے گا کہ کون بنے گا. کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں