پاکستان سے کلیئرنس پانے والے کھلاڑیوں کا کو رونا ٹیسٹ نیوزی لینڈ میں اچانک مثبت کیسے؟۔۔۔ اصل وجہ سامنے آگئی

76

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
کچھ دنوں پہلے پاکستان کرکٹ سکواڈ نیوزی لینڈ سے ٹی ٹونٹی اور ٹیسٹ سریز کھیلنے کے لیے پاکستان سے کوچ کرکے نیوزی لینڈ میں ڈیرے ڈالنے والے سکواڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے نئی مصیبت کھڑی کر دی ہے۔


ایک سوال جو ہر جگہ سننے کو مل رہا ہے کہ پاکستان سے کلیئرنس پانے والے کھلاڑیوں میں یہ اچانک پھر سے کو رونا کہاں سے آ ٹپکا؟ کیا پاکستان میں کرونا ٹیسٹ صیحیح طریقے سے نہیں کیے جا رہے یا

پھر پی سی بی کی طرف سے منتخب میڈیکلز آفیشلز نا اہل ہیں یا پھر کھلاڑیوں کو کرونا وائرس ان کے کلیئرنس ٹیسٹ کے بعد کہیں اور سے ٹرانسفر ہوا ؟ آخر یہ 6 کھلاڑیوں کا

اچانک سے نیوزی لینڈ میں کرونا ٹیسٹ مثبت کیوں پایا گیا جبکہ پاکستان میڈیکلز سے سب کھلاڑی کلیئرنس پا چکے ہیں۔ ان سب سوالوں کے جوابات پی سی بی نے


پی سی بی نے اپنے ایک فارمیلٹی بیان دیا ہے کہ پاکستان سے روانہ ہو نے والے نوجوان کھلاڑیوں کو دراصل بزنس کلاس کی بجائے اکانومی کلاس میں بھیجا گیا تھا جس میں عام مسافر بھی سوار تھے۔ اکانومی کلاس مین موجود کسی مسافر سے کو رونا وائرس آگے کسی نوجوان کھلاڑی میں منتقل ہوا۔

پھر یہی نوجوان کھلاڑی سینئر کھلاڑیوں سے بھی ملتے رہے جہاں سے وہ پھر سینئر کھلاڑیوں میں بھی منتقل ہو گیا۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ ہیلتھ حکام پہلے ہی خدشہ ظاہر کر چکے ہین کہ باقی کھلاڑیوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آسکتے ہیں۔

جس کی وجہ سے کھلاڑی ذہنی الجھن کا شکار ہیں۔ جبکہ نیوزی لینڈ گورنمنٹ پاکستانی کھلاڑیوں کو پہلے وارننگ دے چکی ہے خلاف ورزی پر سریز بھی کینسل کی جا سکتی ہے۔ جبکہ پی سی بی نے مکمل تعاون کی یقین دیانی کروایی ہے. کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں