لاہور کی رہائشی خاتون نے بابر اعظم پرسنگین،الزامات عائدکردیے

170

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
لاہور کی رہائشی لڑکی حامزہ مختار نے بابر اعظم پر دس سال تک،جنسی،ہراسگی کا نشانہ بنانے کےسنگین الزا مات لگا دیئے۔ حامزہ مختار نے کہا بابراعظم نے 2010ء میں انہیں ان کے گھر میں شادی کی پیش کش کی تھی لیکن


لیکن دونوں خاندان متفق نہیں تھے ، وہ 2011 میں بابر کے ساتھ کورٹ میرج کے لیے بھاگیں اور پھر گلبرگ اور پنجاب ہاؤسنگ سوسائٹی میں مختلف مکانوں میں رہائش پذیر رہیں،

بابرنے حالات دیکھتے ہوئے مجھ سے شادی سے انکار کردیا۔ حامزہ کے مطابق انہوں نے سیلون پر نوکری کرکے حاصل ہونے والی تمام آمدنی بابراعظم کو دیدی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بابر اعظم کو مالی اعانت دیکر کرکٹر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دنیا کے سامنے بابر اعظم کے ہاتھوں برداشت کیے گئےجنسی اور مالی،استحصال پر روشنی ڈالنے آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات تھے کہ وہ اپنے گھر نہیں جاسکتی تھیں اور بابر نے وعدہ کیا تھا کہ جب وقت ٹھیک ہوگا تو وہ ان سے شادی کرلیں گے۔ حامزہ نے دعوی کیا کہ 2015ء میں وہ،حاملہ ہوگئی تھی اور جب بابر کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھ پرتشدد کیا اور بعد میں

مجھے اپنے دو دوستوں اور بھائی کی مدد سے اسقاط،حمل پر مجبور کیا۔ حامزہ نے دعوی کیا کہ عثمان قادر کو اس سارے واقعے کے بارے میں بھی معلوم تھا۔ حامزہ نے بتایا کہ بابر نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے گھر واپس جاکر اہل خانہ سے صلح کرلیں ۔ حامزہ کا کہنا تھا کہ

انہوں نے پی سی بی اور تھانہ نصیرآباد میں بھی بابراعظم کے خلاف کاروائی کی درخواستیں دیں لیکن ابھی تک ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے ۔ حامزہ مختار نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ فوری طور پر بابراعظم کےخلاف،ایکشن لیتے ہوئے اسے کپتانی سے ہٹائے۔