پاکستانی کرکٹرز کی نیوزی لینڈ میں سخت ترین،قید تنہائی، وہاں کیسے دن گزار رہے ہیں اورائیرپورٹ پرلینڈ کرتے ہی انہیں کیاہدایات دی گئیں؟تمام تفصیلات سامنے آ گئیں

150

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
فوجکی زیر نگرانی پاکستانی کرکٹرز کی نیوزی لینڈ میں سخت ترین،قید تنہائی شروع ہو گئی ہے جن کےائیرپورٹ پ لینڈ کرتے ہی ایک افسر لاؤڈ سپیکر پر بتاتا رہا کہ کیا نہیں کرنا ہے جبکہ دبئی سے نیوزی لینڈ کیلئے روانہ ہونے والی پرواز میں ایک میڈیکل افسر بھی موجود تھا۔


تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں کو رونا کے حوالے سے سخت قوانین لاگو ہیں جس کے باعث پاکستانی سکواڈ کے دورے سے قبل ہی میزبان بورڈ نے ممکنہ کھلاڑیوں کی ٹیسٹنگ رپورٹس پر نظر رکھنا شروع کر دی تھیں

جنہیں اپنی حکومت کے ساتھ شیئر کیا جاتا، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے زمبابوے سے سیریز کے بعد اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں لئے گئے ٹیسٹ کی رپورٹس بھی

نیوزی لینڈ کو بھیجی تھیں۔ پیر کے روز علی الصبح لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ سے دبئی کیلئے اڑان بھرنے والے پاکستانی سکواڈ نے مختصر قیام کے بعد دوسری فلائٹ سے نیوزی لینڈ کا سفر شروع کیا،

طویل پرواز کے دوران کرکٹرز اور آفیشلز نے نیند پوری کرنے کے ساتھ گپ شپ لگائی اور فلموں سے دل بہلایا۔ اس فلائٹ میں نیوزی لینڈ کا ایک میڈیکل آفیسر بھی موجود تھا جس نے کھلاڑیوں کو بعض مواقع پر ماسک پہننے کی بھی ہدایت دی،

آکلینڈ پہنچنے کے بعد تمام معاملاتفوج نے سنبھال لئے، ایئرپورٹ کے ہر فلور پراہلکار موجود تھے، پولیس اورایئرپورٹ سیکیورٹی فورس بھی وہاں تعینات تھی۔

کرائسٹ چرچ کی فلائٹ سے قبل ایک آفیسر نے اپنا تعارف کراتے ہوئے پاکستان ٹیم کو ہر وقت ماسک پہنے رہنے اور فاصلہ رکھنے کی ہدایت دی، انہوں نے ٹیم ڈاکٹر اورکوچ کو بھی اس حوالے سے پروٹوکول سے آگاہ کیا،ایئرپورٹ سے ہر گروپ اپنی بس پر ہوٹل کیلئے روانہ ہوا۔

ایک آفیسر لاؤڈ سپیکر پر بتاتا رہا کہ کیا نہیں کرنا ہے، ہوٹل میں چاروں گروپس کو الگ بلاکس میں رکھا گیا ہے اور تمام افراد کو تین دن مکمل آئیسولیشن میں رہنا ہوگا اور کوئی کسی سے نہیں مل سکے گا،

سب کو کمروں تک محدود رہنا ہوگا،کھلاڑی جب روم میں پہنچے تو وہاں اگلے دن کے تین وقت کھانے کا مینیو رکھا تھا جس پر انہوں نے اپنی پسندیدہ ڈشز پر نشان لگا کر فارم کمرے سے باہررکھ دئیے،کمروں کے ساتھ موجود بالکونی میں ورزش کی جا سکتی ہے۔

زوم اور واٹس ایپ پر ویڈیو سیشنز میں ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے کھلاڑیوں کو ہدایات ملتی رہیں گی، تین دن بعد کھلاڑی بقیہ 11 روزگروپس کی صورت میں آئیسولیشن مکمل کریں گے، تمام کھلاڑیوں کے چار گروپس تشکیل دئیے گئے ہیں،

پی کے ون گروپ میں عابد علی، شان مسعود، فواد عالم، یاسر شاہ، حارث سہیل، نسیم شاہ، محمد عباس، اظہر علی اور امام الحق شامل ہیں جبکہ مینجمنٹ میں سے یونس خان، محتشم رشید، یاسر ملک، حافظ نعیم اور ابراہیم بادیس اس گروپ کا حصہ ہیں۔

پی کے ٹو میں عبداللہ شفیق،ذیشان ملک، عمران بٹ، سہیل خان، عماد بٹ، دانش عزیز، روحیل نذیر اور ظفر گوہر کو رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ مینجمنٹ میں سے اعجاز احمد، راﺅ افتخار، صبور احمد، عمران علی اور عثمان ہاشمی موجود ہوں گے۔

پی کے تھری میں افتخار احمد، سرفراز احمد، عماد وسیم، محمد حسنین، شاہین شاہ آفریدی، عثمان قادر، فہیم اشرف اور حیدر علی موجود ہیں جبکہ اس گروپ میں مینجمنٹ کے وقار یونس، عبدالمجید، کلف ڈیکن،منصور رانا اور کرنل عثمان شامل ہیں۔

پی کے فور بابر اعظم، شاداب خان، محمد حفیظ، خوشدل شاہ، محمد رضوان، حسین طلعت، وہاب ریاض، حارث رﺅف اورموسیٰ خان پر مشتمل ہے جبکہ مینجمنٹ کے مصباح الحق، شاہد اسلم، طلحہ اعجاز، ڈاکٹر سہیل سلیم اور ملنگ علی بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔

لنکولن یونیورسٹی میں نیوزی لینڈ کرکٹ کا ہائی پرفارمنس سینٹر واقع ہے، وہاں کھلاڑیوں کو ٹریننگ کی اجازت 3 روز کی مکمل آئیسولیشن کے بعد ہی دی جائے گی، محدود سرگرمیوں کی اجازت ملنے کے بعد کھلاڑی گروپس کی شکل میں اپنے لئے

مختص مقام اور وقت پر الگ الگ وارم اپ وغیرہ کر سکیں گے۔ جم بھی ہوٹل کے قریب ہی بنایا گیا ہے اور ایک ہال میں متعلقہ سازو سامان پہنچا کر عارضی انتظامات کئے گئے ہیں، ٹریننگ کیلئے مختص کیا گیا مقام ہوٹل سے 15 منٹ کی مسافت پر ہے،

قرنطینہ کی 14روزہ مدت مکمل ہونے تک اسی وینیو پر ٹریننگ کی جا سکے گی، اس دوران مزید 2 کو رونا ٹیسٹ بھی ہوں گے۔ مکمل ایس او پیز کے ساتھ قیام مکمل ہونے کے بعد کھلاڑیوں اور آفیشلز کو گھومنے پھرنے کی آزادی بھی حاصل ہوجائے گی،

سینئر سکواڈ کی اگلی منزل آکلینڈ ہوگی جہاں پہلا ٹی 20 میچ 18دسمبر کو کھیلا جائے گا، دوسرا میچ 20 دسمبر کو ہیملٹن اور تیسرا 22دسمبر کو نیپیئر میں شیڈول ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ 26 سے 30دسمبر تک ماﺅنٹ مانگونئی اور دوسرا 3 سے 7 جنوری تک کرائسٹ چرچ میں ہوگا، اس دوران پاکستان شاہینز کو 2 چار روزہ اور 4 ٹی 20میچز کھیلنا ہیں، کھلاڑی اپنے میچ کیلئے متعلقہ وینیو کا رخ کریں گے۔