مصباح الحق نیوزی لینڈ کیخلاف کس سے امیدیں لگا بیٹھے؟افتخار احمد سے نہیں بلکہ،انٹرویو میں سب بتا دیا

230

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ پہنچ چکی ہے جس نے 14 روز کا قرنطینہ اختیار کر لیاہے۔ قومی ٹیم اپنے دورے کے دوران میں 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی 20 میچز کھیلے گی اور کھلاڑیوں کیساتھ ساتھ یہ ٹور مصباح الحق کیلئے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،


غیر ملکی خبر رساںا دارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز بھی انگلینڈ جیسی ہی ہیں فرق صرف گیند کا ہے، انگلینڈ میں ڈیوک تو نیوزی لینڈ میں کوکابورا استعمال ہوتی ہے،

نیوزی لینڈ کے پاس ماضی کے مقابلے میں اب اچھا باﺅلنگ اٹیک موجود ہے، ان کے پاس ٹرینٹ بولٹ، ٹم ساﺅتھی اور نیل ویگنر جیسے تجربہ کار باﺅلرز ہیں، سپنرز بھی بہترین ہیں،

ہمیں بھی اپنے فاسٹ باﺅلرز سے کافی توقعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دورہ آسٹریلیا کے موقع پر پاکستانی باﺅلنگ اٹیک ناتجربہ کار تھا مگر اب اس میں پختگی آ چکی ہے،


شاہین شاہ آفریدی کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ، محمد عباس اور سہیل خان بھی اچھی فارم میں ہیں جبکہ نسیم شاہ کو بھی تجربہ حاصل ہو چکا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ نیوزی لینڈ اپنے ملک میں کافی مضبوط ٹیم ثابت ہوئی

اور اعدادوشمار اس کی نشاندہی کرتے ہیں مگر سابقہ ریکارڈزکی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہمارا جیتنے کا امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دورہ انگلینڈ کی طرح ڈسپلن کرکٹ کھیلی تو جیت کے امکانات روشن ہوجائیں گے،

بابراعظم پر ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کا بوجھ ڈالنے کے سوال پر مصباح نے کہاکہ نوجوان بیٹسمین نے محدود اوورز کی کرکٹ میں صورتحال کو عمدگی سے کنٹرول کیا، کپتانی کے ساتھ ان کی اپنی کارکردگی بہتر رہی، وہ ذہنی طور پر مضبوط کھلاڑی ہیں، ویسے بھی کبھی نہ کبھی آپ کو یہ ذمہ داری سنبھالنی پڑتی ہے، قیادت اسے ہی سونپی جاتی ہے جوٹیم کا بہترین پرفارمر ہو۔